سڑکوں کی توسیع کے نام پر پہلے یکخانہ مسجد، اب بھدراچلم مسجد بھی شہید
نماز فجر کے دوران مصلیوں کو مسجد میں مقفل کرکے انہدامی کارروائی، نماز جمعہ سڑک پر ادا کی گئی
حیدرآباد ۔ 13 جولائی (نمائندہ سیاست کی خصوصی رپورٹ) مسلمان جو معاشی و تعلیمی میدان میں کافی پسماندہ ہیں، کو موضوع انتخابات بناتے ہوئے تقریباً ہر سیاسی پارٹی، ان کی فلاح و بہبود کا وعدہ کرتے ہوئے انہیں الیکشن کے وقت ووٹ بینک کے طور پر استعمال کرلیتی ہے اور پھر الیکشن کے بعد وہ اپنی اصلیت پر آجاتی ہے۔ دیگر سیاسی پارٹیوں کی طرح ٹی آر ایس بھی خود کو سیکولر پارٹی ظاہر کرتی رہی ہے جس پر مسلمان بھروسہ کرتے ہوئے انہیں جھولی بھر بھر کر ووٹ دیا اور ٹی آر ایس کو اسمبلی انتخابات میں کامیابی دلائی مگر برسراقتدار آنے کے بعد ٹی آر ایس بھی مخالف مسلم طاقتوں کے اشارے پر کام کررہی ہے۔ ابھی حال ہی میں قلب شہر میں یکخانہ مسجد عنبرپیٹ کو سڑک توسیع کے نام پر شہید کردیا گیا جس کے خلاف مسلمانوں کے مسلسل احتجاج کے باوجود حکومت کے کانوں پر جوں نہیں رینگ رہی ہے۔ ابھی اس المناک حادثے کے صدمے سے مسلمان باہر بھی نہیں نکلے کہ ٹی آر ایس حکومت کے ایک اور محکمہ نے بھدراچلم کی ایک سات سالہ قدیم مسجد کو دن دہاڑے شہید کردیا۔ حیرت انگیز بات یہ ہیکہ فاریسٹ آفیسروں نے نماز فجر کے دوران مصلیوں کو اندر مقفل کرکے بیرونی حصے کو مکمل طور پر منہدم کردیا۔ واضح رہیکہ عادل آباد میں اراضی کے ایک تنازعہ کے بعد ایک خاتون آفیسر پر حملہ کیا گیا تھا جس کے خلاف قومی میڈیا میں کافی کوریج دی گئی مگر اس کے باوجود اسی خاتون آفیسر کے خلاف ایس سی ؍ ایس ٹی ایکٹ کا استعمال کرتے ہوئے کیس درج کردیا گیا۔ اس پس منظر میں مقامی مسلمانوں کا احساس ہیکہ کاش اگر مسلمانوں کے حق میں بھی ایس سی ؍ ایس ٹی ایکٹ کی طرح کوئی ایکٹ ہوتا تو مذکورہ فاریسٹ آفیسر ایسی حماقت اور مسلمانوں کے خلاف ظلم کرنے کی جرأت نہیں کرتا۔ اس سلسلہ میں مقامی ٹی آر ایس پارٹی صدر محمد اقبال نے نمائندہ سیاست شاہنواز بیگ کو بتایا کہ ٹی آر ایس کے دور میں اس طرح سے مساجد کو منہدم کرنے سے مسلمانوں میں تشویش پائی جارہی ہے۔ ایسے واقعات کے خلاف فوری کارروائی کی جائے ورنہ مستقبل میں ٹی آر ایس کو شدید نقصان ہوگا اور پارلیمانی نتائج کی طرح اسمبلی الیکشن کا بھی حشر ہوجائے گا۔ واضح رہیکہ اسی انہدامی کارروائی کے باعث مقامی مسلمان جمعہ کی نماز سڑکوں پر ہی پڑھنے پر مجبور ہوگئے۔ مقامی مسلمانوں نے اس حرکت کے خلاف فوری کارروائی کا مطالبہ کیا اور دوبارہ مسجد تعمیر کرنے کا مطالبہ کیا۔ لوگوں نے بتایا کہ اس سلسلہ میں رکن پارلیمنٹ اسدالدین اویسی کو اطلاع دی گئی تاہم اس کا کوئی حل نہیں نکل پایا۔ واضح رہیکہ مسجد کے قریب ہی ایک مندر بھی واقع ہے مگر اس کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔
