رائے دہی کا تناسب گھٹنے کے لیے ٹی آر ایس کو ذمہ دار بتانا مضحکہ خیز : کے کویتا
حیدرآباد :۔ ٹی آر ایس کی رکن قانون ساز کونسل کے کویتا نے کہا کہ جی ایچ ایم سی کے انتخابات میں ٹی آر ایس پارٹی 100 ڈیویژنس پر کامیابی حاصل کرتے ہوئے اپنی سنچری مکمل کرے گی ۔ کریم نگر میں ایک شادی کی تقریب میں شرکت کے لیے پہونچنے والی کویتا نے کہا کہ جی ایچ ایم سی انتخابات میں کامیابی کے لیے بی جے پی نے اپنی ساری طاقت جھونک دی۔ تمام بی جے پی کے اہم قائدین نے انتخابی مہم میں حصہ لیا اور خوب زہر اُگلا لیکن گریٹر حیدرآباد کے عوام نے ترقی کا ایجنڈہ رکھنے والی ٹی آر ایس کے حق میں ووٹ دیا ہے ۔ عوام اچھی طرح جانتے ہیں 6 سال کے دوران چیف منسٹر کے سی آر نے کیا کیا کام کیے ہیں وہی اسی 6 سال کے دوران وزیراعظم مودی نے کیا کیا ہے ۔ یقینا ووٹنگ تناسب توقع کے مطابق نہیں ہے ۔ پھر بھی ٹی آر ایس 100 سے زائد ڈیویژنس پر کامیابی حاصل کرتے ہوئے اپنی سنچری مکمل کرے گی ۔ عوام کو چیف منسٹر کے سی آر کی کارکردگی پر مکمل بھروسہ ہے ان 6 سال کے دوران ٹی آر ایس حکومت نے اپنے کئی وعدوں کو پورا بھی کیا ہے ۔ جس سے عوام پوری طرح مطمئن ہے ۔ کے کویتا نے تلنگانہ بی جے پی کے صدر بنڈی سنجے کو سخت نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ انہوں نے انتخابی مہم کے دوران صرف نفرت اور جھوٹ پھیلایا ہے وہ حلقہ لوک سبھا کریم نگر کے رکن پارلیمنٹ بھی ہے ۔ مرکز میں بی جے پی کی حکومت بھی ہے ۔ باوجود اس کے بنڈی سنجے نے کریم نگر کی ترقی کے لیے مرکز سے ایک روپیہ بھی حاصل نہیں کیا ہے ۔ لیکن انتخابی مہم کے دوران جھوٹی تشہیر کرتے ہوئے عوام کو گمراہ کرنے کی کوشش کی ہے ۔ وہیں کریم نگر کی نمائندگی کرنے والے ریاستی وزیر گنگولہ کملاکر نے کریم نگر کی ترقی کے لیے ریاستی حکومت سے ایک ہزار کروڑ روپئے حاصل کرتے ہوئے شہر کی ترقی میں اہم رول ادا کررہے ہیں ۔ کیبل برج روڈ کی تعمیر کررہے ہیں ۔ کویتا نے کریم نگر کی ترقی کے لیے ایک روپیہ مرکز سے حاصل نہ کرنے والے رکن پارلیمنٹ بنڈی سنجے کو سبق سکھانے کی عوام سے اپیل کی ۔ بی جے پی کی جانب سے رائے دہی کا تناسب گھٹ جانے کے لیے ٹی آر ایس کو ذمہ دار قرار دینے کو مضحکہ خیز قرار دیا ۔۔