ٹی ایس آر ٹی سی ملازمین کی ہڑتال پر اسکولس و جونیر کالجس کی دسہرہ تعطیلات میں توسیع

,

   

حکومت ڈرنے والی نہیں ، ہڑتال غیر قانونی ، صورتحال سے نمٹنے زائد بسوں کو چلانے کی ہدایت ، پرگتی بھون میں چیف منسٹر کا جائزہ اجلاس
حیدرآباد ۔ 12 ۔ اکٹوبر : ( سیاست نیوز) : تلنگانہ اسٹیٹ روڈ ٹرانسپورٹ کارپوریشن ملازمین کی گذشتہ 8 یوم سے جاری غیر معینہ مدت کی بس ہڑتال کے پیش نظر حکومت نے ریاست بھر میں اسکولوں کو دی گئیں دسہرہ تعطیلات میں 19 اکٹوبر تک توسیع دینے کا فیصلہ کیا ہے ۔ چیف منسٹر مسٹر کے چندر شیکھر راؤ کی صدارت میں آر ٹی سی ملازمین کی جاری ہڑتال اور انجام دئیے جانے والے اقدامات کا جائزہ اجلاس پرگتی بھون میں منعقد ہوا ۔ اس جائزہ اجلاس میں چیف منسٹر نے ٹی ایس آر ٹی سی ملازمین کی جاری ہڑتال سے کالجوں وغیرہ میں تعطیلات کے ختم ہوجانے کے بعد حاضری کے فیصد میں کافی حد تک کمی سے متعلق موصولہ رپورٹس کی روشنی میں اسکولوں کی 14 اکٹوبر سے دوبارہ کشادگی پر اسکولی طلباء و طالبات کو پیش آنے والی مشکلات پر سنجیدگی سے غور کیا اور جاری ہڑتال سے اسکولی طلباء وطالبات کو کسی بھی نوعیت کی مشکلات پیش نہ آنے کے لیے دسہرہ تعطیلات میں مزید چھ یوم کی توسیع دیتے ہوئے ( یعنی 19 اکٹوبر تک 20 اکٹوبر کو بوجہ اتوار عام تعطیل ) 21 اکٹوبر کو دوبارہ کشادگی عمل میں لانے کی متعلقہ عہدیداران محکمہ تعلیمات کو چیف منسٹر مسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے ضروری ہدایات دیں ۔ باوثوق ذرائع نے یہ بات بتائی اور کہا کہ اسکولوں کے تعطیلات میں دی گئی توسیع کے باعث دوسرے ہفتہ کی دو تعطیلات منسوخ کر کے ان دو تعطیلات میں تمام اسکولس کارکرد ( اسکول کھلے رکھنے ) رکھنے کی بھی ہدایت دی گئی ۔ اسی دوران مسٹر سید عمر جلیل سکریٹری تلنگانہ اسٹیٹ بورڈ آف انٹر میڈیٹ ایجوکیشن نے بتایا کہ ریاست کے تمام جونیر کالجس اور دو سالہ انٹر میڈیٹ کورس چلانے والے تمام کامپوزٹ ڈگری کالجس کو بھی 14 تا 20 اکٹوبر تعطیلات دینے کا حکومت نے فیصلہ کیا ہے

اور اس فیصلہ کی روشنی میں مذکورہ تمام کالجس کی 21 اکٹوبر کو دوبارہ کشادگی عمل میں آئے گی ۔ چیف منسٹر نے کہا کہ آر ٹی سی کی صد فیصد بسوں کو چلانے کے انتظامات کرنے کے لیے درکار اسٹاف کے تقررات کرنے اور ممکنہ طور پر ریٹائرڈ آر ٹی سی ڈرائیورس اور پولیس ڈرائیورس کی خدمات سے بھی بھر پور استفادہ کرنے کے اقدامات کریں ۔ علاوہ ازیں بسیں و دیگر بھاری گاڑیاں چلانے والے افراد کے ذریعہ بھی بسیں چلانے کے لیے موثر انتظامات کئے جائیں ۔ مسٹر چندر شیکھر راؤ نے عہدیداروں پر زور دیا کہ وہ دن رات کوئی وقت ضائع کیے بغیر اندرون تین یوم ریاست بھر میں صد فیصد بسوں کے چلانے کو یقینی بنانے کے اقدامات کریں ۔ چیف منسٹر نے کہا کہ یونین قائدین کی باتوں میں آکر اور یونین قائدین پر بھروسہ کر کے غیر مجاز طور پر ڈیوٹی سے غیر حاضر ہو کر از خود اپنی ملازمتوں سے محروم ہوگئے ۔ لیکن کسی بھی ملازم آر ٹی سی کو ملازمت سے حکومت نے برطرف نہیں کیا بلکہ یونین قائدین نے اپنا غیر ذمہ دارانہ طرز عمل اختیار کر کے 48 ہزار ملازمین کو ملازمتوں سے محروم کیا ۔ چیف منسٹر نے مزید کہا کہ ہڑتالی ملازمین سے بات چیت بھی کرنے کا ہرگز سوال پیدا نہیں ہوگا اور دسہرہ تہوار کے موقعہ پر عوام کو مشکلات سے دوچار کرنے والے اور آر ٹی سی کو نقصان پہونچانے والے ملازمین کو ہرگز معاف بھی نہیں کیا جائے گا کیوں کہ وہ ہڑتال نہیں کررہے ہیں بلکہ غیر قانونی اقدامات کررہے ہیں جب کہ ہڑتالی ملازمین کی جاری بس ہڑتال ہرگز قانونی نہیں ہے ۔ جس کی وجہ سے ہی حکومت ہڑتالی ملازمین کے ساتھ انتہائی سخت گیر موقف اختیار کر کے سخت قانونی کارروائی کے اقدامات کررہی ہے ۔ چیف منسٹر مسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے ہڑتالی ملازمین آر ٹی سی کی تائید کرنے والی سیاسی جماعتوں کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ غیر اصولی مطالبات کے ساتھ غیر قانونی طور پر ہڑتال کرنے والے ملازمین آر ٹی سی کی بعض سیاسی جماعتوں کی جانب سے تائید و حمایت کرنا انتہائی غیر اخلاقی اقدام ہے جب کہ عوام کو مشکلات پیدا کرتے ہوئے غیر منصفانہ مطالبات کے لیے ہڑتال کرنے والے ملازمین کی تائید کرنے والی سیاسی جماعتوں کو عوام کی کوئی تائید حاصل نہیں ہے ۔ انہوں نے کہا کہ درحقیقت ریاست تلنگانہ میں اپوزیشن ہی نہیں ہے اور فی الوقت ریاست تلنگانہ کی صورتحال ’ نادان دشمن ‘ کی طرح پائی جاتی ہے ۔ چیف منسٹر نے مزید کہا کہ ہڑتال میں شدت پیدا کرنے آر ٹی سی جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے دئیے جانے والے بیانات سے حکومت ڈرنے اور گھبرانے کے علاوہ ہرگز خوف زدہ نہیں ہوگی بلکہ سخت ترین اقدامات کے ذریعہ بسوں کو چلاتے ہوئے ہڑتال کو ناکام کر دکھائے گی ۔ چیف منسٹر مسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے ریاست بھر میں ہڑتال سے پائی جانے والی صورتحال اور ہڑتالی ملازمین کے پروگراموں وغیرہ پر ریاستی ڈائرکٹر جنرل آف پولیس مسٹر مہیندر ریڈی سے ربط پیدا کر کے ہڑتالی ملازمین کی جانب سے ریاست بھر میں احتجاجی پروگرامس منظم کرنے کی اپیل کو پیش نظر رکھتے ہوئے تمام بس ڈپوز اور بس اسٹیشنوں پر بڑے پیمانے پر پولیس کے صیانتی انتظامات کرنے کی سخت ہدایات دیں ۔ بلکہ بس ڈپوز اور بس اسٹیشنوں میں فی الوقت سی سی کیمروں کی تنصیب عمل میں لاتے ہوئے کسی بھی امکانی ہنگامہ آرائی و گڑبڑ وغیرہ جیسی صورتحال سے سختی کے ساتھ نمٹنے اور کسی قسم کے توڑ پھوڑ وغیرہ جیسے واقعات کی صورت میں کسی کو معاف نہ کرنے بلکہ سخت ترین کیسیس درج کر کے عدالتی تحویل میں دینے کے اقدامات سے بھی گریز نہ کرنے کی ہدایات دیں اور ہڑتال و احتجاج کے نام پر نقصانات پہونچانے والے افراد کو ہرگز نہ بخشا جائے ۔۔