فیکلٹی کی قلت ، ناقص انفراسٹرکچر ، بلاکس خستہ حالت میں
حیدرآباد ۔ 23 ۔ اگست : ( سیاست نیوز ) : تلنگانہ مہیلا وشوا ودیالیئم ، کوٹھی جو ریاست تلنگانہ میں خواتین کی پہلی یونیورسٹی ہے کئی مسائل کا شکار ہوگئی ہے ۔ جہاں فیکلٹی کی قلت ، چند بلاکس خستہ حالت میں ہیں اور کلاس رومس کی کمی ہے ۔ عہدیداروں کے مطابق یہ یونیورسٹی اس ستمبر میں اس کے صدی سال میں داخل ہوگی ۔ اس کا منصوبہ کئی کورسیس شروع کرنے کا ہے ۔ بشمول بی اے فیشن ڈیزائن اینڈ ٹکنالوجی ، ایم ایس سی ڈاٹا سائنس اور ایم ایس سی فوڈ سائنس ، لیکن اس کا اصل مسئلہ اسٹاف کی شدید کمی کا ہے ۔ اس کا زیادہ تر انحصار کنٹراکٹ فیکلٹی پر ہے ۔ مستقل تدریسی اسٹاف کی تعداد صرف 25 ہے باقی کو آوٹ سورسنگ اساس پر مقرر کیا گیا ہے ۔ اس یونیورسٹی میں 217 مستقل اسٹاف کی ضرورت ہے ۔ نیز طالبات کی تعداد کے مطابق ، جو تقریبا 5000 ہیں جن میں یو جی اور پی جی کورسیس کرنے والی طالبات شامل ہیں ، کلاس رومس کافی نہیں ہیں ۔ اس میں تقریبا 96 کلاس رومس ہیں جب کہ اس میں 10 تا 12 مزید کلاس رومس کی ضرورت ہے ۔ یونیورسٹی کے مسائل کے بارے میں پروفیسر ایم وجولتا ، وائس چانسلر نے کہا کہ ایک عرصہ دراز سے اس میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی ہے کئی چیزیں اسی حالت میں ہیں ۔ ان میں لائبریری شامل ہے ۔ ہمارا منصوبہ باب الداخلہ کو کشادہ کرنے کا ہے کیوں کہ یہ تنگ ہے ۔ یونیورسٹی کی حالت کو بہتر نہ بنانے کی اصل وجہ فنڈ کی کمی ہے ۔ چونکہ یہ صدی سال میں داخل ہونے والی ہے اس لیے ہم نے فزیکس بلاک کی مرمت اور تزئین نو کرنے کا فیصلہ کیا ہے جو ایک تاریخی عمارت ہے اور خستہ حالت میں ہے ۔ اسے سنچینری بلاک میں تبدیل کیا جائے گا ۔ ہم نے داخلوں میں ہورہے اضافہ کے پیش نظر ایک ہاسٹل اور اکیڈیمک بلاکس تعمیر کرنے کا منصوبہ بنایا ہے ۔ ایک اور مسئلہ یہ ہے کہ ہمارے یہاں فل فلیجڈ آڈیٹوریم نہیں ہے ہمارے پاس یسرو ہال ہے جس میں ایک وقت میں بمشکل 400 لوگ آسکتے ہیں ۔ اس پر ہم نے ریاستی حکومت کو کئی نمائندگیاں دی ہیں لیکن متعلقہ عہدیداروں سے ہنوز جواب وصول ہونا ہے ۔ وائس چانسلر نے کہا کہ ریاستی حکومت کو یونیورسٹی میں تقررات کا عمل شروع کرنا چاہئے کیوں کہ تدریسی اور غیر تدریسی اسٹاف کی کمی ہے ۔۔
