ٹی ایم سی کو 2024ء میں نشستوں کی تعداد 29 کرنے میں کامیابی ملی

   

ممتابنرجی نے 2024ء کے اہم سیاسی واقعات کا ویڈیو پوسٹ کیا

کولکاتا : 2024 کاسال مغربی بنگال کی سیاست کیلئے کافی اتار چڑھائو کا رہا بالخصوص ممتا بنرجی کیلئے ۔وزیر اعلی ممتا بنرجی نے پورے سال کے سیاسی منظر نامہ کو 12منٹ کے ایک ویڈیو میں قید کرکے سال کے آخری دن میں پوسٹ کیا۔ 2024 کا آغاز گنگا ساگر میلے سے ہوا۔ اس کے فوراً بعد قومی سیاست کی نظریں ایودھیا پر تھیں۔ کیونکہ وزیر اعظم نریندر مودی نے 22 جنوری کو رام مندر کا افتتاح کیاتھا۔ اسی دن ممتا بنرجی نے کلکتہ کی سڑکوں پر یکجہتی مارچ نکالا۔ جلوس ہزارہ سے پارک سرکس میدان تک نکلاگیا۔ فروری میںوزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے مرکزی حکومت سے بقای جات کا مطالبہ کرتے ہوئے ریڈ روڈ پر دھرنا دیا۔ اس موقع پر انہوں نے اعلان کیا کہ اگر مرکز ی حکومت نے ادائیگی نہیں کی تو بقایا اجرت ریاستی حکومت کے خزانے سے ادا کی جائے گی۔ وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے اس وعدے کو لوک سبھا انتخابات سے قبل پورا کیا۔ ترنمول کانگریس نے 10 مارچ کو بریگیڈ میں ایک جلسہ عام کا انعقاد کیا۔ اس میں لوک سبھا انتخابات کے لیے 42 حلقوں کے امیدواروں کے ناموں کا اعلان کیا۔ترنمول کانگریس لیڈر نے ریمپ پر واک کرتے ہوئے امیدواروں کا تعارف کرایا۔ بریگیڈ پریڈ میدان کئی تاریخی ریلیوں اور جلسوں کا گواہ رہا ہے ۔ممتا بنرجی نے ایک نئی قسم کی ریلی کا انعقاد کیا۔اپریل اور مئی میں ہونے والے لوک سبھا انتخابات کی مہم کے لیے ممتا نے ریاست کے شمال سے جنوب تک کا سفر کیا۔ لوک سبھا انتخابات کے نتائج کا اعلان 4 جون کو ہونا تھا۔ترنمول کانگریس نے اپنی سیٹو ں کی تعداد 22 سے بڑھا کر 29 کرنے میں کامیاب رہی ۔ شمالی بنگال جہاں بی جے پی نے اپنی پکڑ مضبوط بنالی ہے مگر ترنمول کانگریس نے کوچ بہار لوک سبھا حلقے میں نشیت پرمانک جو وزیر داخلہ امیت شاہ کے نائب کے طور پر کام کیا کو شکست دینے میں ترنمول کانگریس کامیاب رہی ۔ اس کے علاوہ 2019 کی لوک سبھا میں جنگل محل کی تمام سیٹیں بی جے پی کے پاس تھیں۔ اس مرتبہ ترنمول نے مغربی علاقے میں جھارگرام، مدنی پور اور بنکورہ سیٹوں پر کامیابی حاصل کی ہے ۔ ممتا نے لوک سبھا انتخابات کے بعد 21 جولائی کو ہونے والے سالانہ اجلاس سے پارٹی کو پیغام دیا۔ لیکن جیسے ہی اگست آیا، ممتا کی حکومت اور انتظامیہ کو بے مثال احتجاج کا سامنا کرنا پڑا۔ آر جی کار اسپتال میں ڈاکٹر کی عصمت دری اور قتل کے بعد جونیئر ڈاکٹروں کی تحریک شروع ہوئی ۔ اس کے ساتھ ہی بنگال نے شہری تحریک میں سنگ میل لکھنا شروع کیا۔ اس دوران احتجاج میں شدت کی وجہ سے ممتا بنرجی اور ان کی پارٹی بیک فورڈ پر نظر آئی ۔ممتا بنرجی اچانک مظاہرین تک پہنچ کر تعطل ختم کرنے کی کوشش کی مگر احتجاج ختم نہیں ہوا۔ ڈاکٹروں کے احتجاج اور عوامی تحریک کی وجہ سے ممتا بنرجی کو کلکتہ پولیس کمشنر سمیت کئی اعلیٰ افسران کا تبادلہ کرنا پڑا۔
جونیئر ڈاکٹروں کی بھوک ہڑتال اکتوبر میں بھی جاری رہی ۔بھوک ہڑتال پوجا کے بعد تک جاری رہی۔ حالانکہ اس وقت تک بنگالی میلے میں کافی حد تک داخل ہو چکے تھے ۔ اس اکتوبر میں ایک بار پھر ہوڑہ، ہگلی، مغربی مدنا پور اور بیر بھوم جیسے اضلاع سیلاب کی زد میں آئے ۔ ممتا نے ان تمام علاقوں کا دورہ کرنا شروع کر دیا۔ اس کے بعد سمندری طوفان دینا بنگال سے ٹکرایا۔ اس وقت ممتا کی فعالیت دیکھی گئی۔ نومبر میں ریاست کی چھ اسمبلی سیٹوں کے ضمنی انتخابات میں ترنمول نے زبردست جیت حاصل کی تھی۔ اس سے واضح پیغام پارٹی کو ملا کہ آرجی کار تحریک کا بیلٹ بکس پر نہیں پڑا ہے ۔