نئے قومی تعلیمی پالیسی کو منسوخ کرنے کا مطالبہ، سنگاریڈی میں اساتذہ کا احتجاج، سید صابر علی کا خطاب
سنگا ریڈی۔ 9 جنوری (سیاست ڈسٹرکٹ نیوز ) ان سروس سینیئر اساتذہ کو ٹیچر ایلیجیبلیٹی ٹیسٹ (TET) سے مستثنیٰ قرار دینے، قومی تعلیمی پالیسی (NEP) کو منسوخ کرنے، اسکولوں کے انضمام اور بندش کو روکنے، این پی ایس اور سی پی ایس نظام کو ختم کر کے پرانی پنشن اسکیم بحال کرنے، مساوی کام کے لیے مساوی تنخواہ دینے اور پرائمری اساتذہ کو ایم ایل سی انتخابات میں ووٹ کا حق دینے جیسے مطالبات کے ساتھ آل انڈیا جوائنٹ ایکشن کمیٹی آف ٹیچرز آرگنائزیشنز (AIJACTO) کی اپیل پر ریاست بھر میں اساتذہ نے سیاہ بیجز پہن کر احتجاج کیا۔ایس ٹی یو کے ریاستی مالیاتی سیکریٹری سید صابر علی نے سنگا ریڈی میں کہا کہ ضلع کے مختلف اسکولوں میں اساتذہ نے پرامن طریقے سے احتجاج درج کرایا اور مطالبات کے حق میں آواز بلند کی۔ انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کو چار ماہ گزر جانے کے باوجود مرکزی حکومت اور نیشنل کونسل فار ٹیچر ایجوکیشن (NCTE) کی خاموشی قابلِ مذمت ہے۔انہوں نے الزام لگایا کہ 23 اگست 2010 سے قبل مقررہ اساتذہ کو ٹی ای ٹی سے مستثنیٰ قرار دینے کی اطلاع ہونے کے باوجود این سی ٹی ای نے یہ بات سپریم کورٹ کے سامنے پیش نہیں کی، جس کے نتیجے میں لاکھوں اساتذہ کے روزگار کو خطرہ لاحق ہو گیا ہے۔ اگر دو سال میں ٹی ای ٹی پاس نہ ہوا تو بڑی تعداد میں اساتذہ بے روزگار ہو جائیں گے، ہزاروں اسکول بند ہو سکتے ہیں اور غریب بچوں کی تعلیم متاثر ہوگی۔سید صابر علی نے مطالبہ کیا کہ مرکزی حکومت فوری طور پر سپریم کورٹ میں نظرثانی یا کیوریٹو پٹیشن دائر کرے یا پھر حقِ تعلیم قانون میں ترمیم کر کے سینیئر اساتذہ کو تحفظ فراہم کرے۔ انہوں نے 5 فروری کو دہلی میں ‘‘مارچ ٹو پارلیمنٹ’’ پروگرام میں بڑی تعداد میں شرکت کی اپیل بھی کی۔اس موقع پر ضلع صدر سرینواس راتھوڑ، جنرل سیکریٹری جیون راتھوڑ، ضلع مالیاتی سیکریٹری رمن کمار، نائب صدور پرتاپ ریڈی، پربھاکر ریڈی، نِزام پیٹ منڈل صدر تاڈیکونڈا وجے کمار، نارائن، گائنی وجے کمار، پندری، وِٹّل نائک، مود رویندر رپرتی، نیناوَت وینکٹ، مالا کوندیا اور دیگر اساتذہ موجود تھے۔
