درجہ دوم کی ہیریٹیج عمارت ہونے کے باوجود حکام کی جانب سے نوٹسوں کی اجرائی ‘ پائیگاہ فیملی میں بے چینی
حیدرآباد۔13۔ جنوری۔ (سیاست نیوز) ریاست حیدرآباد کے انڈین یونین میں انضمام کے بعد سے ہی قطب شاہی اور آصف جاہی حکمرانوں کی یادگاروں کو نت نئے انداز اور مختلف سازشوں کے ذریعہ ختم کرنے کوشش کی گئی ہے ۔ ماضی میںبھی ایسی کوشش ہوئی اور اب بھی ہم ایسا ہی دور دیکھ رہے ہیں۔ حیدرآباد کی تاریخ میں قطب شاہی اور آصف جاہیوں کے بعد پائیگاہ خاندان ہی ہے جس نے ریاست کی ترقی میں اہم رول ادا کیا ۔ سر وقار الملک نے فلک نما پیلس بطور تحفہ آصف جاہ صابع کو پیش کرنے کے بعدمقطعہ بیگم پیٹ کے پاڈی گڈہ علاقہ میں واقعہ پائیگاہ پیلس کی تعمیر عمل میںلائی جو پائیگاہ امراء کا مسکن تھا اور آج بھی پائیگاہ خاندان کے لوگ وہاں پر مقیم ہیں ۔ہیرٹیج کی فہرست میںگریڈ ٹو کا درجہ اس قدیم و خوبصورت عمارت کو دیاگیا ہے ۔ اس عمارت کے اطراف تعمیر ی سرگرمیوں سے عمارت کی خوبصورتی کو نقصان کا خدشہ ہے۔ پائیگاہ پیلس کی یہ وہی عمارت ہے جو 1975سے 2008کے درمیان حیدرآباد اربن ڈیولپمنٹ اتھاریٹی کا دفتر رہی ۔ پیالس کے عقبی حصہ میں 1999 میںایک منزلہ عمارت کو بھی پیلس کے حصے کے طور پر شامل کیاگیاتھا۔دوسال قبل تک اس پیلس میںامریکی سفارت خانہ بھی اپنے سفارتی امور انجام اسی عمارت سے انجام دیتا رہا ہے ۔حیدرآباد کے امراء کی اگر ہم درجہ بندی کریں تو آصف جاہوں کے بعد پائیگاہ خاندان کا شمار بھی نظام سابع کے فوری بعد آتا ہے ۔ حیدرآباد میں بڑے محلات اور دیوڑھیوں کی تعمیرات کا سہرہ بھی اسی خاندان کے سر جاتا ہے ۔ سر وقار الملک نے 1900کے دہے میںپائیگاہ پیلس کی تعمیر کروائی تھی۔ نواب ابوالفتح خان بہادر ‘ سروقار الملک کے بڑے پوتے و امیرپائیگاہ نواب سلطان الملک کے بیٹے بھی اس عالیشان پیلس میں مقیم تھے۔ ایسی کئی یادیں اس پیلس سے جڑی ہیں اور آج بھی پائیگاہ خاندان کے لوگ نہ صرف اس پیلس بلکہ اس سے متصل علاقے میںموجود مکانات میںمقیم ہیں۔ بہت ایسے مکانات اور ان کی یادیں اب بھی موجود ہیں جس سے پتہ چلتا ہے کہ پائیگاہ امراء نے اپنے ملازمین کیلئے صاف ستھرے کوارٹرس تعمیر کروائے تھے تاکہ وہ بھی ایک باوقارزندگی گذار سکیں۔مگر اب اس خوبصورت اور تاریخی پیلس پر خطرے کے بادل منڈلارہے ہیں۔ کیونکہ پیلس کے عین سامنے ایک فلائی اوور تجویز کیاگیا ہے جو پائیگاہ امراء کے اس تعمیری شاہکار کیلئے مضر ہوگا۔پائیگاہ خاندان کے افراد نے اس خصوص میںحکومت کی توجہہ دلانے کی کوشش کی ۔ محکمہ حصول اراضیات سے بھی نمائندگی کی اور بتایا ہے کہ پائیگاہ ہیرٹیج عمارتوں کی فہرست میں درجہ دوم کی عمارت ہے جس کے 100میٹردور تک بھی کسی بھی قسم کی تعمیر ی سرگرمی انجام دینے سے منع کیاگیا ہے ۔ شہری انتظامیہ اور محکمہ حصول اراضیات کی مسلسل نوٹسوں سے پریشان پائیگاہ فیملی کے افراد کی فریاد سننے والا کوئی نہیںہے ۔ پائیگاہ خاندان کی بہت ساری یادیں اور جذبات اس تعمیری شاہکار سے جڑی ہیں ۔ پائیگاہ پیلس کی عمارت باہر سے جس قدر خوبصورت ہے اتنی ہی اندر سے بھی خوبصورت ہے ۔ مگر متبادل راستوں کی نشاندہی کے باوجود ان عمارتوں اور یادگاروں کو منہدم کرکے فلائی اوور کی تعمیر کا منصوبہ آصف جاہوں و پائیگاہ حکمرانوں سے شخصی تعصب کی طرف اشارہ کرتاہے۔
