پارسل خدمات والی ہوٹلوںپر حکام کی نظر

   

احتیاطی شرائط کی تکمیل کا جائزہ ‘ مالکین کو تجارت میں کمی کی شکایت
حیدرآباد۔31مئی (سیاست نیوز) ریستوراں سے پارسل کے آغاز کی اجازت کے باوجود 30 فیصد سے زائد مالکین نے خدمات کا آغاز نہیں کیا جبکہ جن ریستوراں مالکین نے آغاز کیا ہے وہ بھی کاروبار سے مطمئن نہیں ہیں ۔ ان کا کہناہے کہ مجموعی اعتبار سے تجارت میں 90 فیصد گراوٹ آئی ہے جس کی کئی وجوہات ہیں جن میں عوام کے دلوں میں خوف کے علاوہ معاشی ابتری کی صورتحال بھی اہم ہیں۔ کہا جا رہاہے کہ عوام کو اب بھی ریستوراں کے کھانوں کے متعلق طمانیت نہیں ہے اور انہیں پکوان و صفائی کے امور کے متعلق خدشات ہیں ۔شہریوں کا کہناہے کہ اگر ریستوراں مالکین عوامی اعتماد حاصل کرنے میں کامیاب ہوتے ہیں تو کاروبار دوبارہ شروع ہوسکتے ہیں اور انہیں گاہکوں کو صفائی کی طمانیت دینی ہوگی ۔ پارسل خدمات کے دوران انہیں سماجی فاصلہ کے علاوہ دیگر امور پر عمل آوری یقینی بنانی ہے ۔ بلدیہ حکام کی جانب سے سرکردہ ہوٹلوں پر نظر رکھی جا رہی ہے کہ وہ سماجی فاصلہ اور دیگر شرائط کی تکمیل کر رہے ہیں یا نہیں ۔ اطلاعات کے مطابق جی ایچ ایم سی نے منصوبہ تیار کیا ہے کہ جو ریستوراں تمام اصولوں کی پابندی کر رہے ہیں ان ہی کو بحالی کی اجازت دی جائے ۔ ریستوراں کی بحالی کی جو شرائط ہوں گی وہ سخت ہوں گی اور جو لوگ اب شرائط کی پابندی نہیں کر رہے ہیں ان کو مکمل بحالی کے بعد بھی فوری اجازت فراہم نہیںکی جائے گی ۔ اسی لئے ریستوراں مالکین کو چاہئے کہ وہ پارسل خدمات کے دوران بھی شرائط بالخصوص سماجی فاصلہ کی برقراری کو لازمی رکھیں۔