ٹامل ناڈو کی نسل کے پرندوں کے دو ماہ کے چوزے 5 تا 6 ہزار اور انڈہ ایک ہزار روپئے میں فروخت ہوتا ہے
حیدرآباد ۔ ونپرتی ٹاون کے قریب واقع راجنا گارم ولیج کے 72 سالہ کے گرونندن ریڈی مرغ اور مرغیاں 60 ہزار روپئے تک کی قیمت پر فروخت کرتے ہیں جو ٹامل ناڈو کی ایک خصوصی نسل پارلہ کے ہوتے ہیں۔ حتی کہ ان کے دو مہینوں کے چوزے بھی 5 تا 6 ہزار روپئے میں فروخت ہوتے ہیں اور انڈوں کی قیمت 1000 روپئے سے کم نہیں ہوتی ۔ اس نسل کے بارے میں تعجب کی بات یہ ہے کہ اس کے شوقین لوگ ان پرندوں کو کھانے کیلئے نہیں خریدتے ہیں بلکہ انہیں بعد میں زیادہ قیمت میں فروخت کرنے کیلئے خریدتے ہیں ۔ یہ بات کونڈا گرونندن ریڈی نے بتائی جو 2006 میں آتماکور مارکٹ کمیٹی کے سکریٹری کی حیثیت سے ریٹائرڈ ہوئے ہیں ۔ اس کے بعد سے وہ پارلہ مرغوں کے کاروبار میں ہیں ۔ یہ پوچھنے پر کہ آیا کیا وہ کسی ایسے لوگوں کو جانتے ہیں جو اس نسل کے مرغوں کو کھاتے ہیں تو اس فارمر نے ہنس کر کہا کہ ’’ اتنی مہنگی چیز کون کھائے گا ‘‘ ۔ ان پرندوں کو کھانے کا سوال نہیں پیدا ہوتا ہے ۔ کیونکہ لوگ انہیں پالنے کیلئے خریدتے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ گذشتہ بیس برسوں میں انہوں نے کسی ایسے شخص کو نہیں دیکھاجس نے اس نسل کے ان پرندوں کو پکانے اورکھانے کیلئے خریدا ہو ۔ ٹاملناڈو اور آندھراپردیش کے ضلع نیلور میں مہشور پارلہ مرغ اور مرغیوں کی دم لمبی ہوتی ہے اور ان کی چونچ طوطے کے طرح چھوٹی ہوتی ہے ۔ اس کے ہر مرغ کی قیمت کہیں 1.5 لاکھ تا 5 لاکھ روپئے ہوتی ہے جو اس کے سائز پر منحصر ہوتی ہے ۔ پارلہ مرغوں کو مرغوں کی لڑائی میں استعمال کیاجاتا ہے اور ان کا وزن 3 تا 4 کیلوگرام ہوتا ہے ۔ ایک مرغ 50,000 تا 60,000 روپئے میں فروخت کیا جاتا ہے ۔ جبکہ مرغی 20,000 تا 30,000 روپئے میں اور دو ماہ کے چوزہ کو 6000 روپئے یا اس سے زائد قیمت پر فروخت کیا جاتا ہے ۔ مسٹر ریڈی نے جو بچپن ہی سے بکروں کی افزائش اور پولٹری بریڈنگ میں دلچسپی رکھتے ہیں ۔ کہا کہ وہ ان مرغوں کو صرف باجرہ ، کنگن ، جوار ، راگیاور گیہوں کھلاتے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ ان پرندوں کے فٹنس کیلئے انہیں دی جانے والی غذاء کی بڑی اہمیت ہوتی ہے ۔