سڈنی میں کامن ویلتھ پارلیمانی کانفرنس، پرساد کمار اور سکھیندر ریڈی کا خطاب
حیدرآباد۔/6نومبر، ( سیاست نیوز) آسٹریلیا کے سڈنی میں کامن ویلتھ پارلیمنٹری اسوسی ایشن کی 67 ویں کانفرنس کا آغاز ہوا۔ اسپیکر تلنگانہ قانون ساز اسمبلی جی پرساد کمار، صدرنشین تلنگانہ قانون ساز کونسل جی سکھیندر ریڈی، ڈپٹی چیرمین بنڈا پرکاش مدیراج، آندھرا پردیش کے اسپیکر اسمبلی سی ایچ آئینا پاتروڈو اور سکریٹری لیجسلیچر ڈاکٹر وی نرسمہا چاریلو کانفرنس میں شریک ہیں۔ سڈنی کے انٹرنیشنل کانفرنس سنٹر میں پارلیمانی نظام اور اس کے فوائد پر سمینار منعقد ہوا جس کی صدارت اسپیکر اسمبلی جی پرساد کمار نے کی۔ سمینار سے خطاب کرتے ہوئے پرساد کمار نے کہا کہ عصری ٹکنالوجی جیسے آرٹیفیشل انٹلیجنس اور انفارمیشن ٹکنالوجی کے استعمال کے ذریعہ پارلیمانی اداروں کی کارکردگی کو بہتر بنایا جاسکتا ہے۔ ہندوستان اور کامن ویلتھ ممالک میں آرٹیفیشل انٹلیجنس کا استعمال کیا جارہا ہے۔ پرساد کمار نے کہا کہ عصری ٹکنالوجی پارلیمانی نظام کو مستحکم کرنے میں مددگار ثابت ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ آرٹیفیشل انٹلیجنس کے استعمال سے پارلیمانی اداروں کے کام کے بوجھ کو کم کیا جاسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دنیا بھر میں پارلیمانی ادارے عصری ٹکنالوجی کا استعمال کررہے ہیں اس سلسلہ میں انگلینڈ اور آسٹریلیا کی مثال پیش کرتے ہوئے پرساد کمار نے کہا کہ پارلیمانی نظام میں عوامی مسائل پر مباحث اور ان کی یکسوئی کی جاتی ہے۔ انہوں نے ہندوستان میں پارلیمنٹ اور ریاستی اسمبلیوں میں عصری ٹکنالوجی کے استعمال کی تفصیلات سے واقف کرایا۔ انہوں نے کہا کہ زبانوں سے ناواقف ارکان کو عصری ٹکنالوجی کے ذریعہ ترجمہ کی سہولت فراہم کی جاتی ہے۔ پارلیمانی کام کاج میں عصری ٹکنالوجی ارکان کیلئے مددگار ثابت ہوتی ہے۔ صدرنشین قانون ساز کونسل جی سکھیندر ریڈی نے کہا کہ ہندوستان میں جمہوریت مضبوط ہے اور عوام کو اپنی پسند کی حکومت منتخب کرنے کا مکمل اختیار ہے۔ دستور میں تمام طبقات کے حقوق کا تحفظ کیا گیا ہے۔ قانون ساز اداروں میں عوام کے حق میں فیصلے کئے جاتے ہیں۔ انہوں نے تلنگانہ ریاست کی مختلف شعبہ جات میں ترقی کا حوالہ دیا۔1