خواتین تحفظات بل کی منظوری کے بعد حلقہ جات میں تخفیف یا اضافہ
حیدرآباد۔21۔ستمبر(سیاست نیوز) ملک میں خواتین تحفظات بل کی منظوری کے ساتھ ہی اب حلقہ جات پارلیمان و اسمبلی کی ازسر نوحد بندی کے سلسلہ میں قیاس آرائیاں شروع کی جاچکی ہیں اور کہا جارہا ہے کہ از سر نو حد بندی کمیشن کی تشکیل کے ساتھ ہی نئے حلقہ جات اسمبلی و پارلیمان کے لئے تیاریاں شروع کرنے کی منصوبہ بندی کی جانے لگی ہے۔نئے حلقہ جات پارلیمان کی تشکیل کے سلسلہ میں دو مختلف نظریات پیش کئے جا رہے ہیں لیکن دونوں ہی نظریات میں یہ کہا جا رہاہے کہ آبادی کے تناسب کے اعتبار سے شمالی ہند کی ریاستوں بالخصوص اترپردیش اور بہار کے حلقہ جات پارلیمان کی تعداد میں زبردست اضافہ ریکارڈ کیا جائے گا اور ساتھ ہی گجرات میں موجود حلقہ جات پارلیمان کی تعداد کو بھی دوگنا کیا جاسکتا ہے۔سال 2019 کی آبادی کے ریکارڈس کے مطابق تیار کی گئی تفصیلات میں کہا جا رہاہے کہ شمالی ہند کی ریاستوں میں پارلیمانی حلقوں کی نشستوں میں اضافہ کیا جائے گا جبکہ جنوبی ہند کی ریاستوں میںحلقہ جات پارلیمان کی تعداد میں کمی لائے جانے کے خدشات ظاہر کئے جا رہے ہیں اور کہا جا رہاہے کہ جنوبی ہند کی ریاستوں میں بعض ریاستوں بالخصوص آندھراپردیش اور تلنگانہ میں 8 پارلیمانی حلقوں تک کی کمی لائی جاسکتی ہے۔سیاسی حلقوں اور سیاسی جماعتوں نے خواتین تحفظات بل کی منظوری کے ساتھ ہی اپنے حلقہ جات اسمبلی و پارلیمان میں خواتین کی تعداد اور ان کے فیصد کے متعلق آگہی حاصل کرنے اور مستقبل کی منصوبہ بندی کا آغاز کردیا ہے اور ممکنہ حد تک ریاست رائے دہندوں کی تعداد میں اضافہ کرتے ہوئے حلقہ جات اسمبلی و پارلیمان کو ازسرنوحد بندی کا شکار ہونے سے بچانے کے اقدامات کی حکمت عملی تیار کی جانے لگی ہے۔از سر نو حد بندی کے سلسلہ میں جن دو نظریات کو پیش کیا جا رہاہے ان میں ایک نظریہ کے مطابق تمل ناڈو میں موجود 39 حلقہ جات پارلیمان کو کم کرتے ہوئے انہیں 31کئے جانے کی بات کی جارہی ہے جو کہ تمل ناڈو میں 8 نشستوں کی تخفیف کا اشارہ دے رہی ہے ۔اسی طرح متحدہ آندھراپردیش میں موجود 42نشستوں کو گھٹاتے ہوئے اسے 34تک محدود کئے جانے کی منصوبہ کاخدشہ ظاہر کیا گیا ہے اس طرح تلگو ریاستوں میں موجود نشستوں میں 8 نشستوں کی کمی کا خدشہ ہے۔کیرالہ کی جملہ 20نشستوں کو کم کرتے ہوئے اسے 12کرنے کی تیاریوں کی قیاس آرائی کی جا رہی ہے اس طرح کیرالہ میں بھی 8نشستوں کو کم کرنے کی تیاری کے اشارے مل رہے ہیں۔کرناٹک میں فی الحال 28 پارلیمانی حلقہ موجود ہیں جن میں 2 کم کرتے ہوئے اسے 26 کرنے کے متعلق اقدامات کا اندازہ لگا یا جارہا ہے۔اترپردیش کی جملہ پارلیمانی نشستوں میں 11 کا اضافہ کرنے کے علاوہ بہار میں 10نشستوںکے اضافہ کی بات کہی جار ہی ہے جبکہ راجستھان میں 6 اور مدھیہ پردیش میں 4 نشستوں کے اضافہ کی بات کی جا رہی ہے اس کے علاوہ چھتیس گڑھ ‘ دہلی ‘ گجرات ‘ہریانہ ‘ جھارکھنڈ میں ایک پارلیمانی نشست کے اضافہ کی بات کی جا رہی ہے جبکہ دوسرے نظریہ کے مطابق اترپردیش اور بہار کی جملہ نشستوں میں اضافہ کرتے ہوئے اسے 222 تک پہنچایا جاسکتا ہے جبکہ مغربی بنگال کی نشستوں میں اضافہ کے ذریعہ ان کی تعداد کو 60 تک کئے جانے کا امکان ہے۔ ریاست مہاراشٹراکی نشستوں میں اضافہ کرتے ہوئے اسے 76 کئے جانے کی قیاس آرائیاں کی جا رہی ہیں جبکہ گجرات کی نشستوں کو دوگنا کرنے کی بات کی جار ہی ہے اور انہیں 43 تک کرنے کے منصوبہ تیار کئے جانے کی اطلاع ہے۔جنوبی ہند کی تمام 5 ریاستوں میں موجود حلقہ جات پارلیمان کی نشستوں میں اضافہ کرتے ہوئے اسے 165 تک کئے جانے کی قیاس آرائی کی جا رہی ہے جبکہ مابقی تمام ریاستوں کی جملہ نشستوں کو 282 تک پہنچانے کی تیاری کی جا رہی ہے۔ پارلیمانی حلقہ جات کی ازسر نو حد بندی کے علاوہ ملک کی تمام ریاستوں میں حلقہ جات اسمبلی کی بھی از سر نو حد بندی کے عمل کو 2026 تک مکمل کرنے کی تیاریاں کی جانے لگی ہیں۔