پٹرول‘ ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ کیخلاف اپوزیشن کا شدید احتجاج ‘ اجلاس دن بھر کیلئے ملتوی
نئی دہلی :پارلیمنٹ بجٹ اجلاس کے دوسرے مرحلہ کا آج ہنگامہ خیز آغاز ہوا ۔اوپوزیشن جماعتوں نے مہنگائی اور پٹرول و ڈیزل کی قیمتوں کے اضافہ کے خلاف شدید احتجاج کیا جس پر اجلاس کو دن بھر کیلئے ملتوی کردیا گیا۔ اجلاس کے آغاز پر احتجاج کرنے والوں ایسے کسان جن کے موت واقع ہوئی ہے ان کو خراج پیش نہ کرنے پر اٖپوزیشن جماعتوں نے حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ۔پٹرول اور ڈیزل کی بڑھتی قیمتوں کے خلاف اپوزیشن نے راجیہ سبھا میں زبردست ہنگامہ کیا۔ اپوزیشن نے وقفہ صفر کو معطل کرنے کا مطالبہ کیا ، جس کی وجہ سے ایوان کی کارروائی میں رخنہ پڑا اور ایوان کی کارروائی معطل کرنی پڑی۔ کووڈ19عالمی وبا کے پیش نظر ، راجیہ سبھا کا اجلاس صبح 9 بجے سے دوپہر دو بجے تک اور لوک سبھا کا اجلاس سہ پہر چار بجے سے رات نو بجے تک رکھا گیا ہے۔سیشن کا دوسرا مرحلہ ایسے وقت میں شروع ہورہا ہے جب سبھی سیاسی پارٹیوں کی توجہ مغربی بنگال ، تمل ناڈو ، آسام ، کیرالہ اور پڈوچیری میں اسمبلی انتخابات پر مرکوز ہے۔ ان ریاستوں میں 27 مارچ سے 29 اپریل تک الیکشن ہونے والے ہیں۔پارلیمنٹ کے بجٹ سیشن کا دوسرا مرحلہ کا آج سے ہوا ہے لیکن امکان ہے کہ اس کے مقررہ مدت میں کمی کی جاسکتی ہے۔چار ریاستوں اور ایک مرکز کے زیر انتظام علاقہ میں اسمبلی انتخابات کے پیش نظر پارلیمنٹ کے بجٹ سیشن کی مدت میں کمی کا امکانہے اور مختلف پارٹیوں کے قائدین اس خیال سے متفق ہیں۔ ذرائع نے کہا کہ یہ ابھی تک فیصلہ نہیں کیا گیا ہے کہ سیشن میں کتنے دنوں کی کٹوتی ہوگی ، لیکن اس طرح کے مشورے دئے گئے ہیں کہ تقریبا دو ہفتے کی کٹوتی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ حتمی فیصلہ پیر کو ایوان کے قائدین کی میٹنگ میں کیا جاسکتا ہے۔اس درمیان لوک سبھا سکریٹریٹ نے پارلیمنٹ احاطہ کے اندر اراکین کے ٹیکہ کاری کا بندوبست کیا ہے۔ موجودہ دور میں کورونا وبا کی وجہ س ایوان کی میٹنگ دو سیشن میں ہوتی ہے۔ راجیہ سبھا کارروائی صبح میں اور لوک سبھا کی کارروائی شام میں منعقد کی جارہی ہے۔ بجٹ سیشن کا دوسرا مرحلہ آٹھ مارچ سے آٹھ اپریل تک مقرر ہیں۔ ذرائع کے مطابق دوسرے مرحلہ میں سرکار کی توجہ اصل طور پر فائنانشیل ایکٹ کو منظور کرانے پر مرکوز ہوگی۔ حکومت اس سیشن میں کئی بلوں کو بھی پاس کرانے کی کوشش کرے گی۔ پانچ ریاستوں کے اسمبلی انتخابات کے پیش نظر اندازہ لگایا جارہا ہے کہ الیکشن کی تشہیر کی خاطر کئی علاقائی پارٹیوں کے سینئر لیڈران ایوان کے اجلاس میں غیر حاضر رہیں گے۔بتادیں کہ سیشن کا پہلا مرحلہ 29 جنوری کو شروع ہوا تھا ، جس میں صدر جمہوریہ رامناتھ کووند نے دونوں ایوانوں کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کیا تھا۔ صدر کے خطاب کا کانگریس سمیت 20 سے زیادہ اپوزیشن پارٹیوں نے مرکز کے تین نئے زرعے قوانین کو رد کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے بائیکاٹ کیا تھا۔ علاوہ ازیں یکم فروری کو عام بجٹ پیش کیا گیا تھا۔بجٹ اجلاس کا پہلا حصہ 29 جنوری کو شروع ہوا تھا۔ راجیہ سبھا کا اجلاس بارہ فروری کو جبکہ لوک سبھا کا اجلاس اس کے اگلے دن وقفے کے لیے ملتوی کردیا گیاتھا۔