شیوسینا اور ڈی ایم کے کا اظہار مذمت ۔ مودی حکومت کو مخالف جمہوریت کام نہ کرنے کا مشورہ
ممبئی ؍ چینائی : پارلیمنٹ کے سرمائی اجلاس کو کورونا وائرس کی صورتحال کی آڑ میں منعقد نہ کرنے مرکز کے فیصلے کو شیوسینا اور ٹاملناڈو کی ڈی ایم کے پارٹی نے مودی حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ دونوں پارٹیوں نے آج دعویٰ کیاکہ مرکزی حکومت اہم مسائل جیسے کسانوں کا جاریہ احتجاج، ملک کی معاشی صورتحال اور چین کے ساتھ سرحدی تعطل پر مباحث سے بچنا چاہتی ہے۔ شیوسینا کے ترجمان اخبار ’سامنا‘ کے اداریہ میں کہا گیا کہ سیشن کی منسوخی اپوزیشن کو اِن مسائل پر سوالات پوچھنے کے موقع سے محروم کرنے کے لئے ہے۔ کیا یہ جمہوری طریقہ کار ہے۔ اگر اپوزیشن بنچوں کی طرف سے جمہوریت میں زوردار آواز آتی ہے تو یہ ملک کے لئے ہی بہتر ہے۔ وزیراعظم مودی کو پارلیمنٹ کی جمہوری روایات کا پاس و لحاظ رکھنا چاہئے۔ ڈی ایم کے ایم پی اور اس کے پارلیمنٹری پارٹی لیڈر ٹی آر بالو نے کہاکہ مرکز کی بی جے پی حکومت کا فیصلہ تشویشناک ہے۔ اُنھوں نے الزام عائد کیاکہ حکومت نے اِس معاملہ میں ڈی ایم کے کے بشمول کوئی بھی اپوزیشن پارٹی سے مشاورت نہیں کی۔ اِس طرح کا طرز عمل ناقابل قبول ہے۔ وزیر پارلیمانی اُمور پرہلاد جوشی نے کہا تھا کہ اُنھوں نے مختلف سیاسی پارٹیوں کے فلور لیڈروں سے رابطہ قائم کیا تھا اور اُنھوں نے جاریہ وباء کے تعلق سے اپنی تشویش ظاہر کی تھی اور یہ رائے بھی پیش کی کہ سرمائی اجلاس کو ترک کردیا جائے۔ ٹی آر بالو نے کہاکہ یہ غلط بیانی ہے۔ ڈی ایم کے اِس کی سخت مذمت کرتی ہے کہ بی جے پی حکومت نے کورونا وباء کی آڑ میں پارلیمنٹ کے سرمائی اجلاس کو قربان کیا۔ سینا نے کہاکہ کورونا سے الیکشن نہیں رُکا تو پارلیمان کو روکنے کی کیا حاجت ہوگئی۔
