بنڈی سنجے کا الزام ، مرکز سے فنڈس کے باوجود تنقید مناسب نہیں
حیدرآباد۔18۔ مارچ (سیاست نیوز) بی جے پی کے ریاستی صدر بنڈی سنجے نے وزیر انفارمیشن ٹکنالوجی کے ٹی راما راؤ کے چیلنج کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ کس حلقہ سے مجھے مقابلہ کرنا ہے، اس کا فیصلہ پارٹی کرے گی اور میں ٹوتھ پالش افراد کے چیلنج کا جواب نہیں دیتا۔ کریم نگر کے دورہ کے موقع پر کے ٹی آر نے بنڈی سنجے کو ریاستی وزیر جی کملاکر کے خلاف مقابلہ کرنے کا چیلنج کیا تھا۔ بنڈی سنجے نے آج کے سی آر اور کے ٹی آر دونوں کو تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ جلسہ عام میں من مانی بیان بازی کرنا افسوسناک ہے۔ انہوں نے کہا کہ کے ٹی آر آپ کے والد تلنگانہ کے غدار ہیں۔ پارلیمنٹ میں تلنگانہ پر مباحث کے وقت کے سی آر موجود نہیں تھے۔ انہوں نے تلنگانہ کیلئے جھوٹی بھوک ہڑتال کی تھی۔ بی جے پی قومی جماعت ہے، ٹی آر ایس کی طرح ایک نرنجن پارٹی نہیں۔ مجھے کس حلقہ سے مقابلہ کرنا ہے ، اس کا فیصلہ پارٹی کرے گی اور کے ٹی آر کے مشورہ کی ضرورت نہیں۔ انہوں نے کہا کہ مرکزی فنڈس حاصل کرنے کے باوجود ٹی آر ایس حکومت مرکز کو نشانہ بنارہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ قومی شاہراہوں اور دیہی ضمانت روزگار اسکیم کے لئے مرکز نے مناسب فنڈس جاری کیا ہے۔ بنڈی سنجے نے کے ٹی آر کے کریم نگر میں جلسہ عام کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ کے ٹی آر کی تقریر خالی ڈبہ میں پتھر کے ساتھ آواز کرنے کے مترادف ہے۔ بی جے پی ڈبہ میں نہیں بلکہ ڈرم میں پتھر ڈال کر آواز کرنے کی طاقت رکھتی ہے۔ ٹی آر ایس حکومت پر بے قاعدگیوں کا الزام عائد کرتے ہوئے بنڈی سنجے نے کہا کہ ریاست کی ترقی متاثر ہوچکی ہے۔ کے سی آر خاندان کے غرور و تکبر کا تلنگانہ عوام مناسب وقت پر جواب دیں گے۔ ر