پارلیمنٹ میں شہریت ترمیمی بل کی مخالفت کرنے ٹی آر ایس کا فیصلہ

   

ارکان کو وہپ کی اجرائی، تبدیل شدہ سیاسی حالات میں اہم اقدام
حیدرآباد ۔9۔ڈسمبر (سیاست نیوز) ٹی آر ایس نے پارلیمنٹ میں شہریت ترمیمی بل کی مخالفت کا فیصلہ کیا ہے، اس سلسلہ میں پارٹی نے وہپ جاری کرتے ہوئے ارکان پارلیمنٹ کو ہدایت دی کہ وہ بل کی پیشکشی کے موقع پر اجلاس میں شرکت کریں اور بل کی مخالفت کریں۔ ٹی آر ایس نے اگرچہ حکومت کے سابقہ فیصلوں کی تائید کی تھی لیکن تبدیل شدہ سیاسی حالات میں پارٹی نے راست طور پر بل کی مخالفت کا فیصلہ کیا۔ نوٹ بندی ، جی ایس ٹی اور طلاق ثلاثہ جیسے اہم معاملات میں ٹی آر ایس کو حکومت کے ساتھ دیکھا گیا تھا۔ حالیہ دنوں میں چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ اور ان کے فرزند کے ٹی راما راؤ نے جنوبی ریاستوں کو نظر انداز کرنے کیلئے مرکز کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ چیف منسٹر نے مرکز سے فنڈس کی عدم اجرائی کی شکایت کی اور اس سلسلہ میں مرکزی وزیر فینانس نرملا سیتارامن کو مکتوب روانہ کیا ہے ۔ مرکزی فنڈس کی اجرائی کے سلسلہ میں کے سی آر آئندہ ہفتہ نئی دہلی دورہ کا منصوبہ رکھتے ہیں ۔ لوک سبھا میں ٹی آر ایس پارلیمانی پارٹی کے وہپ بی بی پاٹل نے وہپ جاری کیا جس میں ارکان سے شہریت ترمیمی بل کی دونوں ایوانوں میں مخالفت کرنے کی درخواست کی گئی ۔ ارکان سے کہا گیا ہے کہ وہ پیر اور منگل کو اجلاس میں شریک رہیں اور بل پر ووٹنگ کی تکمیل تک موجود رہیں۔ واضح رہے کہ متنازعہ شہریت ترمیمی بل کی کانگریس بائیں بازو کی جماعتیں ترنمول کانگریس اور ٹی آر ایس کھل کر مخالفت کر رہی ہے۔ لوک سبھا میں برسر اقتدار پارٹی کو اکثریت حاصل ہے، لہذا بل کی منظوری میں کوئی رکاوٹ نہیں جبکہ راجیہ سبھا میں حکومت کو بل کی تائید میں درکار ارکان دستیاب نہیں۔ شیوسینا ، ٹی آر ایس ، وائی ایس آر کانگریس اور بعض دیگر جماعتوں کی مخالفت کی صورت میں بل کی منظوری میں رکاوٹ پیدا ہوسکتی ہے۔ بی جے پی نے بھی اپنے ارکان کو وہپ جاری کرتے ہوئے ایوان میں موجود رہنے کی ہدایت دی۔