پارلیمنٹ کے مانسون اجلاس میں دونوں ایوان سے 15بل پاس

   

نئی دہلی، 21 اگست (یو این آئی) پارلیمنٹ کا مانسون اجلاس جمعرات کے روز دونوں ایوانوں کی کارروائی غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی ہونے کے ساتھ اختتام پذیر ہو گیا، لیکن بہار میں ووٹر لسٹ کی جامع نظر ثانی کے معاملے پر اپوزیشن کے ہنگامے کے سبب ایک ماہ تک جاری رہنے والا مانسون اجلاس خاصا ہنگامے دار رہا۔ تاہم دونوں ایوانوں میں ہنگامہ اور واک آؤٹ کے درمیان 15 بل منظور کیے گئے ۔لوک سبھا میں پیش کیے جانے والے 14 بل میں سے 12 کو ایوان نے منظور کیا جبکہ 15 بل کو ایوان بالا میں منظور کیا گیا۔ لوک سبھا نے آئینی ترمیمی بل مشترکہ پارلیمانی کمیٹی کے پاس بھیج دیا، جس میں کسی بھی سنگین فوجداری معاملے میں وزیر اعظم، وزرائے اعلیٰ اور وزراء کی گرفتاری اور تیس دن تک حراست میں رہنے کی صورت میں انہیں عہدہ سے استعفی دینے کا التزام ہے ، اور اس سے متعلق دو دیگر بل کو نظرثانی کے لیے مشترکہ پارلیمانی کمیٹی کے پاس بھیج دیا گیا ہے ۔ دونوں ایوانوں میں آپریشن سندور پر 16 گھنٹے بحث ہوئی اور وزیر اعظم نے لوک سبھا میں بحث کا جواب دیا جبکہ وزیر داخلہ نے راجیہ سبھا میں جواب دیا۔ بین الاقوامی خلائی اسٹیشن جانے والے پہلے ہندوستانی شبھانشو شکلا اور خلائی شعبے میں ہندوستان کی کامیابیوں پر لوک سبھا میں بحث شروع ہوئی تھی، لیکن اپوزیشن کے ہنگامے کی وجہ سے یہ مکمل نہیں ہوسکی۔
پورے اجلاس کے دوران متحدہ اپوزیشن نے بہار میں ووٹر لسٹ کی جامع نظرثانی کے عمل میں ہونے والی بے ضابطگیوں اور اسے واپس لینے کے مطالبے پر حکومت کو گھیرا اور اس پر بحث کا مطالبہ کرتے ہوئے دونوں ایوانوں کے کام کاج میں مسلسل خلل ڈالا۔ اپوزیشن نے اجلاس کے پہلے ہی دن سے آپریشن سندور اور ووٹر لسٹ پر نظر ثانی کے معاملے پر بحث کا مطالبہ شروع کر دیا تھا۔ اجلاس کے دوسرے ہفتے میں آپریشن سندور پر بحث کے بعد اپوزیشن نے ووٹر لسٹ پر نظرثانی کے معاملے پر دونوں ایوانوں میں کارروائی نہیں چلنے دی۔ جب حکمراں جماعت اور اپوزیشن کے درمیان تعطل جاری رہا تو حکومت نے ہنگامہ کے درمیان بل پاس کرانے کی حکمت عملی اپنائی۔