پارٹیاں تبدیل کرنے والوں کی کابینہ میں شمولیت غیرجمہوری

   

Ferty9 Clinic

پارٹیوں کا انحراف دستور ہند کے مغائر، ٹی آر ایس حکومت کے اقدام پر جی کشن ریڈی کا ردعمل
حیدرآباد 8 ستمبر (سیاست نیوز) مرکزی منسٹر آف اسٹیٹ برائے داخلہ مسٹر جی کشن ریڈی نے ریاستی ٹی آر ایس حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا اور کہاکہ پارٹیاں تبدیل کرنے والے ارکان اسمبلی کو ریاستی کابینہ میں شامل کرنا بالکلیہ طور پر نامناسب اور غیر جمہوری ہے کیوں کہ پارٹیوں سے انحراف کرنا دستور ہند کے مغائر ہوگا۔ کشن ریڈی نے پرزور الفاظ میں کہاکہ پارٹیوں سے انحراف کرنے کے تعلق سے موجودہ قانون کو مزید مضبوط و مستحکم بنانے کی شدید ضرورت ہے اور توقع ہے کہ مرکزی حکومت اس سلسلہ میں بہت جلد اقدامات کرے گی۔ کشن ریڈی نے درحقیقت آج ریاستی کابینہ میں پارٹی سے انحراف کرکے ٹی آر ایس میں شامل بعض ارکان کو (کسی کا نام نہ لیتے ہوئے) ریاستی کابینہ میں شامل کرنے پر چیف منسٹر کے چندرشیکھر راؤ کو ہدف ملامت بنایا اور کہاکہ تلنگانہ جدوجہد میں ابتداء سے سرگرم حصہ لے کر ارکان اسمبلی کی حیثیت سے منتخب ہونے کے باوجود ان حقیقی جہدکاروں کو نظرانداز کرکے بعض سیاسی مفادات کو پیش نظر رکھتے ہوئے دیگر پارٹیوں سے انحراف کرکے ٹی آر ایس میں شامل ہونے والے ارکان اسمبلی کو کابینہ میں شامل کرنا کے سی آر کے صوابدید پر چھوڑ دینا ہی مناسب بات ہوگی۔ انھوں نے ریاست میں زرعی کھاد یوریا کی کسانوں کو فراہمی میں حکومت کی ناکامی کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا اور کہاکہ ریاستی حکومت کو دور اندیشی نہ رہنے کی وجہ سے ہی ریاست میں یوریا کی قلت جیسی صورتحال پیدا ہوئی۔ کشن ریڈی نے واضح طور پر کہاکہ مرکزی حکومت نے ریاست کے لئے درکار یوریا حکومت کو فراہم کرچکی ہے جبکہ ریاست تلنگانہ میں یوریا زرعی کھاد کی قلت کے مسئلہ پر ریاستی وزراء اور محکمہ زراعت کے عہدیداروں کے بیانات میں تضاد بیانی پر اُنھوں نے برہمی کا اظہار کیا اور کہاکہ اس آپسی تضاد بیانی سے گریز کرتے ہوئے سب سے کسانوں کو زرعی کھاد یوریا فراہم کرنے پر اولین ترجیح دینے کا مشورہ دیا۔ مرکزی منسٹر آف اسٹیٹ برائے داخلہ نے ریاست میں یورانیم کھدائی کے تعلق سے سیاسی قائدین اور عوام میں پائی جانے والی تشویش پر کہاکہ اس مسئلہ پر کسی تشویش یا احتجاج کی ہرگز ضرورت نہیں ہے کیوں کہ یورانیم کی کھدائی کے لئے ابھی اقدامات نہیں کئے جارہے ہیں۔