پارٹی استحکام اور کیڈر کے حوصلے بلند کرنے کے سی آر کی توجہ

,

   

۔10 ڈسمبر کو دورہ سدی پیٹ ، اضلاع کا دورہ اور کارکنوں سے ملاقات کا منصوبہ
حیدرآباد۔ گریٹر بلدی انتخابات میں پارٹی کے کمزور مظاہرہ کے بعد چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے ریاست بھر میں پارٹی کارکنوں کے حوصلے بلند کرنے کیلئے اضلاع کے دوروں کا منصوبہ بنایا ہے۔ اس منصوبہ کے تحت چیف منسٹر 10 ڈسمبر کو سدی پیٹ کے دورہ سے اپنے پروگرام کا آغاز کریں گے۔ سدی پیٹ میں منی تلنگانہ بھون کے افتتاح کے علاوہ بعض دیگر پروگراموں میں کے سی آر حصہ لیتے ہوئے پارٹی قائدین و کارکنوں سے ملاقات کریں گے۔ گریٹر انتخابات میں نتائج ٹی آر ایس کیلئے مایوس کن رہے۔ 99 نشستوں سے گھٹ کر محض 55 نشستوں پر ٹی آر ایس کو اکتفاء کرنا پڑا اور ان کی زیادہ تر نشستوں پر بی جے پی نے قبضہ کرلیا۔ ٹی آر ایس کو اس مرتبہ سنچری مکمل کرنے کا یقین تھا لیکن نتائج چونکا دینے والے رہے۔ بی جے پی نتائج کو بنیاد بناکر ریاست میں اپنے قدم جمانے کی کوشش کررہی ہے۔ ان حالات میں چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے اضلاع کے دورے کا منصوبہ بنایا ہے۔ دوباک اسمبلی ضمنی چناؤ میں شکست کے بعد گریٹر حیدرآباد کے چناؤ ٹی آر ایس کیلئے مایوس کن رہے ایسے میں چیف منسٹر کا احساس ہے کہ قائدین اور کیڈر کے حوصلوں کو بلند رکھنے کیلئے خود انہیں میدان میں اُترنا ہوگا۔ چیف منسٹر کے علاوہ ورکنگ پریسیڈنٹ کے ٹی راما راؤ بھی اضلاع کے دورے کرسکتے ہیں۔ ذرائع نے بتایا کہ چیف منسٹر اضلاع میں پارٹی کے نئے دفاتر کی عمارتوں کا افتتاح کریں گے تاکہ مقامی قائدین اور کارکنوں سے قربت ہو اور کارکنوں سے مقامی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا جاسکے۔ ہر ضلع میں پارٹی کے موقف کے علاوہ وزراء اور عوامی نمائندوں کی کارکردگی کا جائزہ لینے میں اضلاع کے دورے کارگر ثابت ہوسکتے ہیں۔ چیف منسٹر نے ورنگل اور کھمم کے مجوزہ بلدی انتخابات پر توجہ مبذول کی ہے اور وہاں کے عوامی نمائندوں اور وزراء کے ساتھ اجلاس منعقد کرنے کی کے ٹی آر کو ذمہ داری دی گئی۔ گریٹر حیدرآباد کے نتائج کے پس منظر میں حکومت توقع ہے کہ جنوری یا فبروری میں کھمم اور ورنگل میونسپل کارپوریشنوں کے انتخابات کا فیصلہ کرے گی۔ دونوں اضلاع میں بی جے پی کا خاصا اثر موجود ہے اور حیدرآباد کے نتائج سے بی جے پی قائدین و کیڈر کے حوصلے بلند ہیں۔