جاوید احمد خان، فرہاد حکیم ‘شبینہ یاسمین اور اروپ بسواس بھی شامل ، ٹی ایم سی میں بحران جاری
کولکاتا۔23؍جون ( ایجنسیز) آل انڈیا ترنمول کانگریس (ٹی ایم سی) نے مغربی بنگال میں جاری سیاسی ہلچل کے درمیان منگل کو اپنے آٹھ سینئر قائدین کو پارٹی سے خارج کر دیا۔ پارٹی سے نکالے گئے لیڈروں میں جاوید احمد خان، فرہاد حکیم، اروپ رائے، رتھن گھوش، بپلب مترا، شبینہ یاسمین، اروپ بسواس اور اسنیہاشیش چکرورتی شامل ہیں۔ پارٹی نے اسی روز ان لیڈروں کو شوکاز نوٹس بھی جاری کیے تھے جن میں الزام عائد کیا گیا کہ انہوں نے دانستہ طور پر پارٹی مخالف سرگرمیوں میں حصہ لیا اور تنظیمی نظم و ضبط کی خلاف ورزی کی۔یہ کارروائی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب پارٹی کے اندر تنظیمی اختلافات شدت اختیار کر چکے ہیں۔ پیر کے روز مغربی بنگال میں قائد حزب اختلاف رتبرتا بنرجی کی قیادت میں ایک باغی گروپ نے آل انڈیا ترنمول کانگریس کے لیے نئی قیادت کے ڈھانچے کا اعلان کیا تھا۔ اس اجلاس میں اروپ رائے کو متفقہ طور پر آل انڈیا ترنمول کانگریس کا چیئرمین منتخب کیا گیا جبکہ 30 رکنی قومی ورکنگ کمیٹی (این ڈبلیو سی) بھی تشکیل دی گئی۔ باغی گروپ نے ایک بار پھر اس خواہش کا اظہار کیا کہ سابق وزیراعلیٰ ممتا بنرجی پارٹی میں سرپرست (مینٹور) کا کردار ادا کریں۔
الیکشن کمیشن کو ترنمول کانگریس کی نئی ورکنگ کمیٹی کی فہرست بھیجی گئی ہے: ممتا بنرجی
کولکاتہ، 23 جون (یو این آئی) ترنمول کانگریس کے اندر جاری طاقت کی لڑائی کے درمیان، پارٹی سربراہ ممتا بنرجی نے ورکنگ کمیٹی کی ایک نئی ترمیم شدہ فہرست الیکشن کمیشن کو بھیجی ہے ۔ ذرائع کے مطابق 22 جون کی تاریخ والی اس فہرست کو اسی دن نئی دہلی میں الیکشن کمیشن کے سامنے جمع کرایا گیا۔ سیاسی تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ محترمہ بنرجی کا یہ قدم یہ واضح پیغام دینے کے لیے ہے کہ پارٹی کی تنظیم پر ان کا کنٹرول پوری طرح قائم ہے ۔ یہ واقعہ اسی دن سامنے آیا جب ریتبرت بنرجی کی قیادت والے ایک باغی دھڑے نے اپنی ایک الگ ورکنگ کمیٹی کا اعلان کر دیا۔ اس باغی دھڑے کے نئے ڈھانچے سے ممتا بنرجی اور ابھیشیک بنرجی دونوں کو باہر رکھا گیا ہے ۔ باغیوں کے گروپ نے سابق وزیر اور ایم ایل اے اروپ رائے کو اپنا چیئرمین مقرر کیا ہے ۔ اس کے علاوہ ایم ایل اے فرہاد حکیم اور رتھن گھوش کو نائب صدر، جبکہ ریتابرت بنرجی، جاوید خان، سندیپن ساہا اور سبینا یاسمین کو جنرل سکریٹری بنایا گیا ہے ۔ ابھی یہ واضح نہیں ہو سکا ہے کہ محترمہ بنرجی نے اپنی فہرست باغی دھڑے کے اعلان سے پہلے جمع کی تھی یا اس کے بعد۔ ان کی ترمیم شدہ فہرست میں خود انہیں صدر اور ابھیشیک بنرجی کو قومی جنرل سکریٹری کے عہدے پر برقرار رکھا گیا ہے ۔