پارٹی میں ناراضگیوں کے بعد چیف منسٹر عرش سے فرش پر پہونچ گئے

   

ناراض قائدین کیلئے پرگتی بھون کے دروازے کھول دیئے گئے ، سرخ قالین پر خیرمقدم
مخالف پارٹی سرگرمیوں میں ملوث قائدین کے خلاف نرم رویہ ، کے سی آر نے خود مورچہ سنبھال لیا، پارٹی حلقوں میں حیرت

حیدرآباد۔ 26 ستمبر (سیاست نیوز) مسلسل کامیابیوں کے بعد آسمان کی بلندیوں پر پہونچ جانے والے کے سی آر نے گزشتہ 10 برسوں کے دوران کبھی پیچھے پلٹ کر نہیں دیکھا اور اپنے فیصلوں پر اٹل رہے ۔ مخالف پارٹی سرگرمیوں میں ملوث رہنے والوں کو پارٹی سے معطل کردیا گیا یا طاقت کا استعمال کرتے ہوئے ان کا منہ بند کرادیا گیا ۔ ان کا فیصلہ قطعی ہوتا تھا ان کے ہر فیصلہ کی تائید کرنے کا پارٹی میں رحجان پیدا ہو گیا تھا ۔ ان سے ملاقات کرنے کی ارکان اسمبلی کو بھی اجازت نہیں تھی ۔ 10 سال تک انہوں نے اپنے بنائے اصولوں پر عمل کیا ۔ برسوں پارٹی قائدین کو ان سے ملاقات کرنے کا موقع نہیں ملتا تھا ۔ تاہم 10 سال بعد حالات پوری طرح تبدیل ہوگئے ہیں کانگریس کا گراف دیہی علاقوں میں مسلسل بڑھتا جارہا ہے ۔ کانگریس کے 6 وعدوں کا عوام میں مثبت پیغام پہونچا ہے ۔ سب سے پہلے 115 امیدواروں کا اعلان کرنے والے چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ مسلسل تیسری مرتبہ کامیابی کو یقینی تصور کررہے تھے لیکن ان کی تیار کردہ حکمت عملی خود ان کیلئے الٹی پڑ گئی سب سے پہلے ان کے ہر حکم کا احترام کرنے والے بی آر ایس پارٹی قائدین نے ان کے فیصلہ کی مخالفت شروع کردی ۔ ٹکٹ سے محروم ہونے والے ارکان اسمبلی کے علاوہ ٹکٹ کے مضبوط دعویدار قائدین نے چیف منسٹر کے سی آر کے خلاف علم بغاوت کردی ۔ بیشتر اسمبلی حلقوں میں پارٹی قائدین نے امیدواروں کی مخالفت کی ۔ احتجاجی طریقہ کار اختیار کیا ۔ کھلے عام تنقیدوں کے ساتھ بند کمروں میں خفیہ اجلاسوں کا اہتمام کررہے ہیں ۔ بی آر ایس کے ٹربل شوٹر ہریش راو کو بی آر ایس کے رکن اسمبلی ایم ہنمنت راو کی جانب سے دھمکی دینے اور پارٹی فیصلوں کو چیلنج کرنے کے باوجود پارٹی قیادت نے ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی ۔ ارکان اسمبلی راجیا ، ایم یادگیری ریڈی ، ریکھا نائیک ، راتھوڑ باپو راو اور بی سبھاش ریڈی کے علاوہ ضلع محبوب نگر کے دو بی آر ایس کے ارکان قانون ساز کونسل حکومت پارٹی اور چیف منسٹر کے خلاف علم بغاوت کررہے ہیں مگر ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی جارہی ہے ۔ ناراض قائدین کو منانے میں کے ٹی آر ، ہریش راو ناکام ہوجانے کے بعد چیف منسٹر کے سی آر خود میدان میں کود پڑے ہیں اور پرگتی بھون کے دروازے ناراض قائدین کیلئے کھول دیئے گئے ہیں ۔ ناراض قائدین کو منانے کیلئے ان کا سرخ قالین پر استقبال کیا جارہا ہے ۔ انہیں مختلف عہدوں کی پیشکش کی جارہی ہے ۔ پارٹی میں عوامی طاقت رکھنے والے ہر قائد کو بات چیت کیلئے مدعو کیا جارہا ہے ۔ چیف منسٹر نے اُمید کی تھی پارٹی میں جو بھی اختلافات ہیں وہ چند دن میں حل ہوجائینگے تاہم اس کے آثار نظر نہ آنے کے بعد وہ خود میدان میں کود پڑے ہیں ۔ اس کے علاوہ احتجاجی آنگن واڑی ٹیچرس کے مسائل کا بھی وہ جائزہ لے رہے ہیں ۔ ساتھ ہی ناراض سرکاری ملازمین کو منانے کیلئے پے ریویژن کمیشن تشکیل دینے کمیشن سے سفارش ہونے تک عبوری الاؤنس دینے کی محکمہ فینانس سے رپورٹ طلب کرلی گئی ہے ۔ 29 ستمبر کو منعقد ہونے والے کابینہ اجلاس میں اس پر اہم فیصلہ ہونے کا قوی امکان ہے اس کے علاوہ سماج کے مختلف طبقات کو جو پنشن دیا جارہا ہے اس میں اضافہ کرنے اور خواتین کو آر ٹی سی بسوں میں مفت سفر کرنے کی اجازت دینے پر بھی غور کیا جارہا ہے ۔ ن