پارٹی کارکنوں کو 100 دن جدوجہد جاری رکھنے ریونت ریڈی کا مشورہ

   

Ferty9 Clinic

کے سی آر کو گجویل سے مقابلہ کا چیلنج، محبوب نگر کے بی آر ایس قائدین کی کانگریس میں شمولیت
حیدرآباد۔/23 جولائی، ( سیاست نیوز) صدر پردیش کانگریس ریونت ریڈی نے کانگریس کارکنوں کو مشورہ دیا کہ وہ آئندہ 100 دن تک تلنگانہ میں کانگریس اقتدار کیلئے جدوجہد کریں۔ تلنگانہ میں آئندہ حکومت کانگریس کی ہوگی اور غریبوں کیلئے اندراماں راج کا آغاز ہوگا۔ گدوال اسمبلی حلقہ سے تعلق رکھنے والے بی آر ایس اور بی جے پی قائدین کی کثیر تعداد نے آج کانگریس میں شمولیت اختیار کرلی۔ ریونت ریڈی نے گاندھی بھون میں قائدین کا استقبال کیا اور کانگریس کا کھنڈوا پہناکر پارٹی میں شامل کیا۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے ریونت ریڈی نے کہا کہ تلنگانہ میں کے سی آر حکومت کی اُلٹی گنتی شروع ہوچکی ہے اور عوام نے کانگریس کو برسراقتدار لانے کا فیصلہ کرلیا ہے۔ ریونت ریڈی نے الزام عائد کیا کہ چیف منسٹر کے سی آر شکست کے خوف سے گجویل کے بجائے کسی اور اسمبلی حلقہ سے مقابلہ کی تیاری کررہے ہیں۔ انہوں نے چیف منسٹر کو چیلنج کیا کہ اگر وہ اپنی حکومت کی کارکردگی کے بارے میں مطمئن ہیں تو پھر گجویل سے مقابلہ کریں اور پارٹی کے تمام سیٹنگ ارکان اسمبلی کو دوبارہ ٹکٹ دیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ بی آر ایس کے ارکان اسمبلی بدعنوانیوں میں ملوث ہیں اور کے سی آر کو یقین ہوچکا ہے کہ موجودہ ارکان اسمبلی کے مقابلہ کی صورت میں پارٹی کو شکست کا سامنا کرنا پڑے گا۔ انہوں نے کہا کہ گدوال بنیادی طور پر کانگریس کا قلعہ رہا ہے اور بعض قائدین کی بی آر ایس اور بی جے پی میں شمولیت سے پارٹی کمزور نہیں ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ اسمبلی انتخابات میں گدوال پر کانگریس کا پرچم لہرائے گا۔ سونیا گاندھی نے محبوب نگر کے فرزند کی حیثیت سے مجھے پردیش کانگریس کی صدارت پر فائز کرتے ہوئے اعزاز بخشا ہے۔ انہوں نے کہا کہ محبوب نگر پسماندہ ضلع نہیں ہے بلکہ پسماندہ افراد کو اس ضلع نے سہارا دیا ہے۔ محبوب نگر کی تمام 14 اسمبلی نشستوں پر کانگریس کامیابی حاصل کریگی اور برسراقتدار آتے ہی پالمور رنگاریڈی لفٹ اریگیشن اسکیم پر عمل کیا جائے گا۔گدوال ضلع پریشد کی صدرنشین سریتا تروپتماں کے ہمراہ جی چندر شیکھر ریڈی اور مختلف مواضعات کے سرپنچوں کے بشمول 800 قائدین نے کانگریس میں شمولیت اختیار کی۔