پارٹی کی موجودہ صورتحال پر ذہنی تناؤ میں ہوں، کھرگے کو جیون ریڈی کا مکتوب

   

بی آر ایس ارکان کی شمولیت کی مخالفت، کانگریس چھوڑنے کا کوئی ارادہ نہیں
حیدرآباد 25 اکٹوبر (سیاست نیوز) کانگریس کے رکن قانون ساز کونسل ٹی جیون ریڈی نے صدر کانگریس ملکارجن کھرگے کو مکتوب روانہ کرتے ہوئے تلنگانہ میں پارٹی کی موجودہ صورتحال پر دُکھ اور افسوس کا اظہار کیا۔ جیون ریڈی جو جگتیال کے بی آر ایس رکن اسمبلی کی کانگریس میں شمولیت کے بعد سے ناراض ہیں، اپنی ناراضگی کا کھل کر مکتوب میں اظہار کیا ہے۔ 3 صفحات پر مشتمل مکتوب میں جس کی نقل سونیا گاندھی اور راہول گاندھی کو روانہ کی گئی جیون ریڈی نے بی آر ایس ارکان کی کانگریس میں شمولیت کی کھل کر مخالفت کی۔ گزشتہ دنوں جگتیال میں اپنے کٹر حامی کے قتل کے بعد سے جیون ریڈی پارٹی اور حکومت کو نشانہ بنارہے ہیں۔ بی آر ایس سے ارکان اسمبلی کے انحراف پر شدید ردعمل ظاہر کرتے ہوئے جیون ریڈی نے راہول گاندھی کا سابق میں دیا گیا بیان یاد دلایا جس میں اُنھوں نے منحرف ارکان کو معطل کرنے کا مشورہ دیا تھا۔ جیون ریڈی نے الزام عائد کیاکہ قانون میں موجود بعض خامیوں کا فائدہ اُٹھاتے ہوئے انحراف کی حوصلہ افزائی کی جارہی ہے۔ جیون ریڈی نے اپنے حامی گنگا ریڈی کے قتل کی تفصیلات پیش کرتے ہوئے بی آر ایس قائدین پر الزام عائد کیا۔ اُنھوں نے مکتوب میں کہاکہ وہ کافی ذہنی تناؤ میں ہیں اور صدر کانگریس ملکارجن کھرگے سے درخواست کی کہ موجودہ صورتحال میں اُن کی رہنمائی کریں۔ جیون ریڈی نے کانگریس پارٹی اور موجودہ قیادت کو بھی نشانہ بنایا۔ مکتوب میڈیا کے لئے جاری کرتے ہوئے جیون ریڈی نے کہاکہ وہ کانگریس پارٹی کی موجودہ صورتحال سے کافی دُکھی ہیں۔ جس پارٹی میں 40 سال تک کام کیا آج اُسی پارٹی کی جانب سے میری توہین کی جارہی ہے۔ اُنھوں نے کہاکہ حکومت کی تبدیلی کے باوجود اضلاع میں بی آر ایس قائدین کے مظالم جاری ہیں۔ اُنھوں نے انحراف کے مسئلہ پر فوری کارروائی کرنے ہائی کمان سے اپیل کی۔ اُنھوں نے کہاکہ انحراف کو روکنے کے لئے قانون سازی کانگریس کا کارنامہ ہے لیکن تلنگانہ میں قانون کی خلاف ورزی کی جارہی ہے۔ جیون ریڈی نے کہاکہ عوام نے تلنگانہ میں کانگریس کو اکثریت عطا کی ہے اور دوسری پارٹیوں سے انحراف کی کوئی ضرورت نہیں۔ اُنھوں نے کہاکہ قانون ساز کونسل میں اُنھوں نے کانگریس کی جانب سے تنہا 10 برسوں تک مقابلہ کیا تھا۔ جیون ریڈی نے کہاکہ تلنگانہ کے پارٹی قائدین نے اُنھیں تیقن دیا ہے کہ اُن کا وقار متاثر نہیں ہوگا۔ اُنھوں نے الزام عائد کیاکہ پارٹی میں بعض مفاد پرست عناصر سرگرم ہوچکے ہیں۔ اُنھوں نے کہاکہ موجودہ صورتحال پر چیف منسٹر ریونت ریڈی، ڈپٹی چیف منسٹر بھٹی وکرامارکا اور صدر پردیش کانگریس مہیش کمار گوڑ کو مکتوب روانہ کرچکے ہیں۔ کانگریس پارٹی میں جاری ناانصافیوں سے دُکھی ہوکر اُنھوں نے ہائی کمان کو توجہ دلائی ہے۔ جیون ریڈی نے جگتیال کے بی آر ایس رکن اسمبلی ڈاکٹر سنجے کی پارٹی میں شمولیت کی مخالفت کی۔ اُنھوں نے سابق اسپیکر پوچارم سرینواس ریڈی کو بھی نشانہ بنایا۔ سرینواس ریڈی نے حال ہی میں کانگریس میں شمولیت اختیار کی اور اُنھیں حکومت کے مشیر کا عہدہ دیا گیا ہے۔ سرینواس ریڈی کی شمولیت کی مخالفت کرتے ہوئے جیون ریڈی نے کہاکہ بی آر ایس میں رہ کر 10 برسوں تک اُنھوں نے جس طرح انحراف کے مسئلہ کو نمٹا تھا، اُسی طرح وہ کانگریس پارٹی کو مشورے دے سکتے ہیں۔ کانگریس پارٹی سے استعفیٰ کے بارے میں پوچھے جانے پر جیون ریڈی نے کہاکہ پارٹی چھوڑنے کی کوئی تجویز نہیں ہے اور وہ حقیقی کانگریسی کی حیثیت سے اپنا دُکھ درد قیادت کو پیش کرچکے ہیں۔ 1

چیف منسٹر ریونت ریڈی سے بھی عنقریب ملاقات کریں گے۔ اُنھوں نے انحراف کے بعد ڈی ناگیندر کو لوک سبھا ٹکٹ دینے اور منحرف ارکان کو نامزد عہدوں پر فائز کرنے کی مخالفت کی۔ 1