نیشنل فیملی ہیلت سروے میں انکشاف ، ماہرین صحت کے لیے لمحہ فکر
حیدرآباد۔ حکومت کی جانب سے نیشنل فیملی ہیلت سروے کے دوران اس بات کا انکشاف ہوا ہے کہ ملک کے 22 ریاستوں اور مرکزی زیر انتظام علاقو ںمیں بچوں میں موٹاپے کی شکایات میں زبردست اضافہ ریکارڈکیا جا رہاہے اور اندرون 5 سال کے بچوں میں ریکارڈ کیا جانے والا یہ اضافہ ماہرین صحت کو تشویش میں مبتلاء کئے ہوئے ہے۔ حکومت ہند کے محکمہ صحت اور اطفال کی نگرانی میں کروائے جانے والے اس سروے کے دوران یہ کہا گیا ہے کہ نیشنل فیملی ہیلت سروے ماہرین صحت کیلئے لمحۂ فکر ہے کیونکہ سال 2015-16 کے دوران کئے گئے اس سروے سے جو سنسنی خیز انکشاف ہوا ہے وہ صحت مند ماحول کیلئے اچھی بات نہیں ہے۔ سروے رپورٹ کے مطابق مہاراشٹر‘ گجرات‘ میزورم ‘ تریپورہ‘ لکشادیپ‘ جموں و کشمیر کے علاوہ لداخ میں بچوں میں موٹاپے کے فیصد میں زبردست اضافہ ریکارڈ کیا جانے لگا ہے ۔ ماہرین کی رائے ہے کہ بچوں میں غیر صحتمند غذاء کے استعمال کے علاوہ ان میں جسمانی حرکت کی عادت نہ ہونے کے سبب یہ موٹاپا ریکارڈ کیا جانے لگا ہے۔ نیشنل فیلی ہیلت سروے کے دوران اس بات کا انکشاف ہوا ہے کہ ملک بھر میں صرف گوا‘ دادر انگر حویلی ‘ دمن و دیو کے علاقوں میں موٹاپے میں کمی ریکارڈ کی گئی ہے جبکہ مابقی تمام ریاستوں اور مرکزی زیر انتظام علاقوں میں غذائی عادات و اطوار کے علاوہ دیگر مسائل کے سبب موٹاپے میں اضافہ ہی ریکارڈ کیا جانے لگا ہے ۔لداخ میں 13.4 فیصد 5سال سے کم عمر کے بچے موٹاپے کا شکار پائے گئے ہیں جبکہ لکشادیپ میں 10.5 فیصد بچوں کو موٹاپے کا شکار ہے۔میزورم میں0 1فیصد بچے موٹاپے کا شکار پائے گئے ہیں۔اسی طرح جموں و کشمیر اور سکم میں 9.6 5سال سے کم عمر بچوں کو موٹاپے کا شکار پایا گیا ہے ۔سروے رپورٹ کے مطابق ملک کی 16 ریاستو ںمیں خواتین کے موٹاپے کا شکار افراد کی تعداد میں اضافہ ریکارڈکیا گیا ہے جبکہ 19 ریاستوں میں مردوں کے موٹاپے کا شکار ہونے کی توثیق ہوئی ہے۔کیرالہ اور انڈمان و نکوبار میں خواتین کی بڑی تعداد موٹاپے کا شکار ہونے لگی ہے اور ان کا فیصد 38 سے تجاوز کرچکا ہے ۔ ماہرین صحت کا ماننا ہے کہ موٹاپے کا شکار ہونے کی بنیادی وجوہات غیر صحتمندانہ غذائی عادات و اطوار کے علاوہ جسمانی ورزش کا نہ ہونا ہے۔ماہرین کا کہناہے کہ ٹاپے کو قابو کرنے کیلئے لازمی ہے کہ انسان اپنی غذائی عادات و اطوار میں تبدیلی لانے کے ساتھ ساتھ جسمانی ورزش کو عادات میں شامل کرتے ہوئے اسے لازمی کرلیں۔
