حیدرآباد۔6 ۔اگست (سیاست نیوز) حکومت نے دلتوں کی معاشی ترقی کیلئے دلت بندھو اسکیم کا آغاز کردیا ہے جس کے تحت مستحق خاندانوں کو 10 لاکھ روپئے کی مالی امداد دی جارہی ہے ۔ دلت خاندان 10 لاکھ روپئے کے حصول سے خوش ہیں لیکن انہیں اس بھاری رقم پر ٹیکس ادا کرنا پڑے گا۔ اسکیم کے استفادہ کنندگان کیلئے ٹیکس کی ادائیگی ایک نیا درد سر بن چکی ہے۔ حکومت نے اگرچہ 10 لاکھ روپئے کی امداد فراہم کرنے کا فیصلہ کیا ہے لیکن اس رقم کو ٹیکس سے مستثنیٰ نہیں کیا گیا جس کے باعث محکمہ انکم ٹیکس کے حکام نے چوکسی اختیار کرلی ہے تاکہ استفادہ کنندگان سے 10 لاکھ روپئے کا طئے شدہ ٹیکس حاصل کیا جائے ۔ چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے اپنے اڈاپٹ کردہ گاؤں واسالا مری سے دلت بندھو اسکیم کا آغاز کیا اور اس سلسلہ میں جاری کردہ سرکاری احکامات میں ٹیکس سے استثنیٰ کا کوئی ذکر نہیں ہے ۔ گاؤں کے 76 خاندانوں کے بینک اکاؤنٹ میں فی کس 10 لاکھ روپئے کی رقم منتقل کی جاچکی ہے ۔ محکمہ انکم ٹیکس نے مزید افراد کو انکم ٹیکس کے دائرہ میں شامل کرنے کے غرض سے دلت بندھو اسکیم کے استفادہ کنندگان پر نظر رکھی ہے۔ اگر استفادہ کنندگان انکم ٹیکس ریٹرن داخل نہ کریں تو انہیں نوٹس دی جاسکتی ہے۔ موجودہ انکم ٹیکس قانون کے تحت سالانہ 5 لاکھ روپئے کی آمدنی تک ٹیکس سے استثنیٰ رہے گا ۔ عہدیداروں کا کہنا ہے کہ اکاؤنٹ میں 10 لاکھ روپئے کی منتقلی سے متعلق یہ اسکیم ملک میں اپنی نوعیت کی پہلی اسکیم ہے۔ مرکز کا کوئی ایسا قانون نہیں جس کے تحت ویلفیر اسکیمات کے استفادہ کنندگان کو انکم ٹیکس سے مستثنیٰ کیا جائے۔ عام طور پر مرکزی اور ریاستی حکومتوں کی جانب سے جن اسکیمات کا آغاز کیا جاتا ہے ، ان کی مالیت پانچ لاکھ سے زائد نہیں ہوتی۔ جیسے جیسے اسکیم پر عمل آوری میں اضافہ ہوگا ، استفادہ کنندگان کو ٹیکس کی ادائیگی کرنی ہوگی۔ عدم ادائیگی کی صورت میں انہیں محکمہ انکم ٹیکس سے نوٹس حاصل ہوگی۔ عہدیداروں نے بتایا کہ بینک اکاونٹ میں 49,000 سے زائد رقم جمع کرنے کیلئے پیان کارڈ کی تفصیلات دینا ضروری ہے ۔ اگرحکومت پیان کارڈ کے بغیر اکاؤنٹ میں 10 لاکھ روپئے جمع کرتی ہے تو اس سے استفادہ کنندگان کیلئے قانونی دشواریاں پیدا ہوں گی۔ ریاستی حکومت دلت بندھو اسکیم سے انکم ٹیکس کو استثنیٰ دینے کیلئے مرکز سے درخواست کرسکتی ہے۔