لابی کا سامنا نہ کرنے والے ججوں کے بارے میں فکر، ضمیر کے مطابق فیصلہ نہ کرنا بے ایمانی: سابق چیف جسٹس رنجن گوگوئی
نئی دہلی، 20 مارچ(سیاست ڈاٹ کام) راجیہ سبھا کے رکن کے بطور نامزدگی قبول کرنے کے بعد شدید تنقید کا سامنا کرنے والے سابق چیف جسٹس آف انڈیا (سی جے آئی) رنجن گوگوئی نے کہا کہ پانچ-چھ افراد کی ایک لابی کے شکنجے کے سبب عدلیہ خطرے میں ہے۔ جسٹس (ریٹائرڈ) گوگوئی نے کہا یہ لابی ان ججوں کو بدنام کرنے کی کوشش کرتی ہے جو اس کی مرضی کے موافق فیصلہ نہیں سناتے۔ انہوں نے کہا،‘ عدلیہ کی آزادی کا مطلب اس پر پانچ-چھ کا شکنجہ ختم کرنا ہے ۔ جب تک یہ شکنجہ ختم نہیں کیا جائے گا، عدلیہ آزاد نہیں ہو سکتی۔ انہوں نے ججوں کو ایک طرح سے قیدی بنا لیا ہے ۔ اگر کسی معاملے میں ان کی مرضی کا فیصلہ نہیں ہوتا تو وہ ججوں کو ہر ممکن طریقے سے بدنام کرتے ہیں۔ میں ان ججوں کے تئیں متفکر ہوں جو لابی کا سامنا نہیں کرنا چاہتے ہیں اور خاموشی سے ریٹائر ہونا چاہتے ہیں۔ انہوں نے ان تنقیدوں اور نکتہ چینی کو سرے سے خارج کر دیا کہ راجیہ سبھا میں ان کی نامزدگی اجودھیا اور رافیل سے متعلق فیصلے کا انعام ہے ۔ انہوں نے کہا کہ انھیں لابی کی بات نہ ماننے کے سبب بدنام کیا جا رہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اگر کوئی جج اپنے ضمیر کے مطابق فیصلے سنائے ۔ اگر وہ ایسا نہیں کرتے تو ایک جج کے طور پر ایماندار نہیں رہ پاتے۔ جسٹس گوگوئی نے انگریزی اخبار‘ٹائمس آف انڈیا’ کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ اگراجودھیا فیصلے کی بات کی جائے تو وہ متفقہ فیصلہ تھا۔ پانچ ججوں کی بینچ نے اتفاق رائے سے فیصلہ سنایا تھا۔ اسی طرح رافیل بھی تین ججوں کی بینچ کا فیصلہ بھی متفقہ فیصلہ تھا۔ ان فیصلوں پر سوال اٹھا کر’ کیا وہ ان دونوں فیصلے سے متعلق ججوں کی ایمانداری پر سوال نہیں اٹھا رہے ہیں؟ انہوں نے 2018 کی پریس کانفرنس کا ذکر کرتے ہوئے کہا،‘جب میں نے جنوری 2018 میں پریس کانفرنس کی تو میں لابی کا محبوبِ نظر تھا لیکن وہ چاہتے تھے کہ جج مقدمات کا فیصلہ ان کے موافق کریں اور اس کے بعد ہی وہ انھیں ‘آزاد جج‘ کا سرٹیفکیٹ دیں گے ۔ میں نے وہی کیا جو مجھے درست لگا، اگر ایسا نہیں کرتا تو میں جج کے طور پر خود کے تئیں سچا نہیں رہ پاتا’۔ انہوں نے کہا،‘ دوسروں کی رائے سے (سوائے بیوی کے ) نہ کسی سے ڈرا تھا، نہ ڈرتا ہوں اور نہ ڈروں گا۔ میرے بارے میں دوسروں کی رائے کیا ہے ، یہ میری نہیں بلکہ ان کا مسئلہ ہے اوریہ انھیں ہی حل کرنا ہے ۔ کیا میں تنقید سے ڈرتا ہوں؟ اگر ہاں تو کیا میں ایک جسٹس کے بطور کام کر سکتا تھا‘؟