جواہرلال نہرو یونیورسٹی میں تشدد کی مذمت ، طلبہ کے ساتھ اظہار یکجہتی کیلئے احتجاجی مظاہرے
نئی دہلی 6 جنوری (سیاست ڈاٹ کام) ملک بھر میں یونیورسٹیوں کے احاطوں میں اور بیرونی ممالک میں بھی جواہرلال نہرو یونیورسٹی کے طلبہ کے ساتھ اظہار یکجہتی کرتے ہوئے مظاہرے کئے گئے اور یونیورسٹی میں ہونے والے تشدد کی مذمت کی گئی۔ احتجاجی مظاہرے پانڈیچری کی یونیورسٹی، بنگلور یونیورسٹی، یونیورسٹی آف حیدرآباد اور علیگڑھ مسلم یونیورسٹی میں کئے گئے۔ طلبہ نے پرامن جلوس نکالے تاکہ اپنا احتجاج اور یونیورسٹی کے احاطہ میں تشدد کے خلاف مذمت درج کرواسکیں۔ اُن میں سے آج، کل ہم بھی ہوسکتے ہیں۔ کسی بھی نوعیت کا تشدد قابل مذمت ہے۔ ہم جواہرلال نہرو یونیورسٹی کے اپنے دوستوں کے ساتھ کھڑے ہیں۔ پانڈیچری یونیورسٹی کے ایک طالب علم رئیزا نے یہ بیان دیا۔ احتجاجی مظاہرے آکسفورڈ اور کولمبیا یونیورسٹی میں بھی دیکھے گئے جہاں کے طلبہ نے اظہار یکجہتی کیا اور پوسٹروں کے ساتھ جلوس نکالے جن پر طلبہ کے یونیورسٹی کے احاطہ میں تحفظ کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ جواہرلال نہرو یونیورسٹی میں تشدد اتوار کی رات شروع ہوا، چند نقاب پوش مسلح افراد جن کے پاس لاٹھیاں تھیں، طلبہ اور اساتذہ پر حملہ آور ہوئے اور احاطہ میں موجود تمام اشیاء کی توڑ پھوڑ کی۔ کئی افراد زخمی ہوئے جنھیں آل انڈیا انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسیس نئی دہلی میں شریک کیا گیا۔ جواہرلال نہرو یونیورسٹی کے طلبہ، صدر طلبہ یونین ایشے گھوش کے سر پر زخم آئے۔ 34 طلبہ کو صدمہ سے متاثرہ افراد کے مرکز میں شریک کیا گیا اور پیر کی صبح ڈسچارج کیا گیا۔ بائیں بازو کے حمایت یافتہ جے این یو ایس یو اور اے بی وی پی نے ایک دوسرے پر تشدد کے جاری رہنے کا ذمہ دار قرار دیا۔ تشدد تقریباً دو گھنٹے تک جاری رہا تھا۔ ممبئی سے موصولہ اطلاع کے بموجب ممبئی کے مختلف کالجوں، گیٹ وے آف انڈیا کے پاس موجود کالجوں اور مہاراشٹرا کے مختلف علاقوں میں قائم کالجوں کے طلبہ نے بھی تشدد کی مذمت کی۔