’پانی سر سے اوپر چلا گیا‘:ملکارجن کھرگے

   

نئی دہلی: کانگریس صدر ملکارجن کھرگے نے مودی حکومت پر اپوزیشن لیڈروں کے خلاف مرکزی تفتیشی ایجنسیوں کا غلط استعمال کر کے جمہوریت کا قتل کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔ ایک ٹوئٹ میں کھرگے نے کہا کہ مودی حکومت اپوزیشن لیڈروں پر ای ڈی اور سی بی آئی کا غلط استعمال کر کے جمہوریت کو قتل کرنے کی مذموم کوشش کر رہی ہے۔کانگریس صدر ملکارجن کھرگے نے سوال اٹھاتے ہوئے کہا ’’مودی حکومت کی ایجنسیاں اس وقت کہاں تھیں جب بھگوڑے ملک سے کروڑوں روپے لے کر بھاگے؟ جب بہترین دوست کی دولت آسمان کو چھوتی ہے تو اس کی تحقیقات کیوں نہیں ہوتی؟ عوام اس آمریت کو منہ توڑ جواب دیں گے۔‘‘ انہوں نے کہا ’’گزشتہ 14 گھنٹوں سے مودی جی نے ای ڈی کو بہار کے نائب وزیر اعلی تیجسوی یادو کے گھر پر بٹھا رکھا ۔ ان کی حاملہ بیوی اور بہنوں کو ہراساں کیا جا رہا ہے۔
لالو پرساد جی بوڑھے ہیں، بیمار ہیں، تب بھی مودی سرکار نے ان کے تئیں انسانیت نہیں دکھائی۔ اب پانی سر سے گزر چکا ہے۔‘‘

کھرگے کا یہ بیان انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) کی جانب سے بہار کے سابق وزیر اعلیٰ لالو پرساد یادو کے خاندان پر چھاپہ ماری کے بعد آیا ہے۔ یہ چھاپہ جنوبی دہلی کے ایک گھر پر مارا گیا جہاں لالو یادو کے بیٹے اور بہار کے نائب وزیر اعلی تیجسوی یادو موجود تھے۔ وہیں، ای ڈی نے بہار کے کئی شہروں میں بھی لالو پرساد یادو کے خاندان اور آر جے ڈی لیڈروں کے ٹھکانوں پر چھاپے مارے ہیں۔دوسری طرف، پیر کو پٹنہ میں سی بی آئی کی ٹیم نے رابڑی دیوی سے چار سے پانچ گھنٹے تک پوچھ گچھ کی تھی۔ اس کے بعد اگلے دن منگل کو دہلی میں آر جے ڈی سپریمو لالو پرساد یادو سے بھی تقریباً 2.30 گھنٹے پوچھ گچھ کی گئی۔