بی آر ایس قائدین کے الزامات مسترد، وزیر آبپاشی اتم کمار ریڈی کا ردعمل
حیدرآباد۔ 4 جنوری (سیاست نیوز) وزیر آبپاشی اتم کمار ریڈی نے کرشنا اور گوداوری کے پانی کی تقسیم میں تلنگانہ کے ساتھ ناانصافی کے لئے سابق بی آر ایس حکومت کو ذمہ دار قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ سابق چیف منسٹر کے سی آر کی تاریخی غلطیوں کے نتیجہ میں تلنگانہ کو نقصان ہوا ہے۔ آبی حقوق کے تحفظ کے لئے تلنگانہ حکومت کی سنجیدگی کو شبہ سے بالاتر قرار دیتے ہوئے اتم کمار ریڈی نے کہا کہ سابق بی آر ایس حکومت نے آندھرا پردیش کے ساتھ معاہدات کے ذریعہ تلنگانہ کو نقصان پہنچایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بی آر ایس کی جانب سے حکومت پر بے بنیاد الزامات عائد کئے جارہے ہیں جبکہ انہوں نے دن رات محنت کرتے ہوئے آبپاشی پراجکٹس اور پانی کی تقسیم کی تفصیلات اور دستاویزات اکھٹا کئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پالمور رنگاریڈی پراجکٹ کی تکمیل میں سابق حکومت نے کوئی دلچسپی نہیں لی۔ انہوں نے کہا کہ کرشنا اور گوداوری میں تلنگانہ کے آبی حقوق کے لئے کانگریس حکومت ہر سطح پر جدوجہد کررہی ہے۔ آندھرا پردیش کے پراجکٹس کے خلاف سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ آبپاشی پراجکٹس کے نام پر گزشتہ 10 برسوں میں بھاری خرچ کے باوجود زرعی شعبہ کو کوئی فائدہ نہیں پہنچا۔ انہوں نے کہا کہ چندرا بابو نائیڈو اور وائی ایس جگن موہن ریڈی دور حکومت میں بی آر ایس حکومت نے جو معاہدات کئے وہ تلنگانہ کے لئے نقصان دہ ثابت ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پالمور رنگاریڈی پراجکٹ کے تخمینہ میں اضافہ کرتے ہوئے سرکاری خزانے پر بوجھ عائد کیا۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ کے حقوق کے برخلاف سابق بی آر ایس حکومت نے معاہدات کئے لیکن آج کانگریس کو تنقید کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔ تلنگانہ حکومت نے 756 ٹی ایم سی پانی پر اپنی دعویداری پیش کی ہے۔ 1
