پاور پلانٹ کے دورہ کی کوشش پر ریونت ریڈی و ملو روی گرفتار

,

   

پولیس نے راستہ میں روک دیا، حادثہ کی سی بی آئی تحقیقات کیلئے کانگریس کا مطالبہ
حیدرآباد۔ سری سیلم پاور پلانٹ کا معائنہ کرنے پہنچنے والے کانگریس ایم پی ریونت ریڈی اور سابق ایم پی ملو روی کو ناگرکرنول میں پولیس نے روک کر حراست میں لے لیا۔ ریونت ریڈی اور ملو روی دیگر قائدین کے ساتھ سری سیلم پراجکٹ کا معائنہ کرنے روانہ ہوئے تھے۔ وہ مہلوکین کے لواحقین و متاثرین سے ملاقات کے خواہاں تھے۔ناگرکرنول کے اپو ننتلہ منڈل کے ویلور گیٹ کے قریب پولیس نے ریونت ریڈی کے گاڑیوں کے قافلہ کو روک لیا۔ پولیس نے کہا کہ پاور پراجکٹ کے معائنہ کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔ جس پر ریونت ریڈی نے کہا کہ وہ پولیس نگرانی میں معائنہ کیلئے تیار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ حادثات کی وجوہات جاننے اور مہلوکین کے پسماندگان کو پرسہ اور متاثرین سے ملاقات کرنا چاہتے ہیں۔ پولیس نے انہیں آگے بڑھنے کی اجازت نہیں دی اور حراست میں لے لیا۔ اس موقع پر پولیس اور ریونت ریڈی کے درمیان تکرار ہوئی اور وہاں موجود کانگریس کارکنوں نے خلاف نعرے لگائے۔ گرفتاری سے انکار پر ریونت ریڈی کو پولیس نے ہاتھوں پر اٹھالیا اور گاڑی میں منتقل کیا۔ ریونت ریڈی و ملوروی کو پولیس اسٹیشن منتقل کیا گیا۔ وہاں ریونت ریڈی نے اعلان کیا کہ وہ پاور پلانٹ کے معائنہ تک واپس نہیں ہونگے۔ کے سی آر حکومت کی مرضی ہے جب تک چاہے وہ پولیس اسٹیشن میں رہنے تیار ہیں ۔ یہاں سے ہم اسی وقت جائیں گے جب معائنہ کی اجازت دی جائے گی۔

انہوں نے کہا کہ حادثہ کی وجوہات کا پتہ چلانے وہ دورہ پر ہیں۔ اس مسئلہ کو وہ پارلیمنٹ میں پیش کرکے سی بی آئی تحقیقات کا مطالبہ کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ فنی ماہرین نے حکومت کو حادثہ کے بارے میں پہلے ہی چوکس کردیا تھا لیکن ان کی رپورٹ کو نظرانداز کردیا گیا۔ ریونت ریڈی نے حادثہ میں 9 ہلاکتوں کو سرکاری قتل قرار دیا اور وزیر برقی کے علاوہ صدرنشین و منیجنگ ڈائرکٹر ٹرانسکو کو ذمہ دار قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ چیف منسٹر کو واقعہ کی ذمہ داری قبول کرکے جگدیش ریڈی وزیر برقی کو برطرف کرنا چاہیئے۔ انہوں نے وزیر برقی جگدیش ریڈی و منیجنگ ڈائرکٹر جینکو پربھاکر راؤ کے خلاف مقدمہ درج کرکے گرفتار کرنے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے مہلوکین کے ورثاء کو ایک کروڑ روپئے معاوضہ کی مانگ کی۔پولیس نے شام میں ریونت ریڈی اور ملو روی کو اپنی گاڑیوں کے ذریعہ حیدرآباد منتقل کردیا۔ انہیں حیدرآباد میں قیامگاہ پر چھوڑ دیا گیا۔