ماضی میں بڑی چاوڑی میں میٹرو ریل تعمیرات پر عوام کے احتجاج سے حکومت متبادل راستہ اختیار کرنے پر مجبور
حیدرآباد۔12جنوری(سیاست نیوز) حیدرآباد میں فلائی اورس کی تعمیر شہر میںبڑھتی ٹریفک پر قابو پانے کے حوالے سے کی جاتی ہے مگر تعمیر کے لئے حاصل کی جانے والی عمارتوں اور مقامات سے متاثرہ لوگوں کے جذبات اور احساسات وابستہ ہوتے ہیں ۔ متبادل راستوں کی نشاندہی کے باوجود اراضیات کے حصول کا محکمہ اور شہری انتظامیہ کی جانب سے طئے شدہ راستے پر ہی تعمیرات انجام دینے کی ضد حکومت کے متعصبانہ رویہ کی ترجمانی کرتی ہے ۔ ایسی بے شمار مثالیں موجود ہیں جس کا ہم اگر جائز ہ لیں تو ہمیںمعلوم ہوگا کہ مختلف سرکاری محکموں نے حالات کو دیکھتے ہوئے اپنے تعمیر ی منصوبوں میںجنگی تبدیلیاں لائی ہیں۔ جیسا کہ ہم نے دیکھا میٹرو ریل پراجکٹ کے تحت املی بن تا سکندرآباد میٹرو ریل کی تعمیرات کے دوران جب میٹرو لائن کوٹھی سے ہوتی ہوئی بڑی چاوڑی سے نارائن گوڑہ لے جانے کا معاملہ آیاتب مقامی تاجرین‘ مذکورہ راستے پر موجود منادر اور مساجد ‘ بالخصوص جین مند ر انتظامیہ اور شہری انتظامیہ کے درمیان میںٹھن گئی تھی۔عوامی احتجاج اور دبائو کے چلتے حکومت کو انہدامی کاروائی کے بغیر بڑی چاوڑی علاقے سے میٹرو لائن بچھانے پر مجبور ہونا پڑا تھا۔ مگر جہاں جہاں پر بھی آثار قدیمہ اور مسلم حکمرانوں کی تعمیر کردہ قدیم عمارتوں کی بات آئی تو حکومت نے بلاکسی تاخیر انہدامی کاروائیاں انجام دی ہیں۔ اس قسم کی کاروائی کو ہم تعصب نہیں تو پھر اور کیا کہیں گے۔ ارم منزل کا ماضی میں واقعہ پیش آیا تھا پھر سکریٹریٹ کے اندر موجود تاریخی عمارت کو منہدم کرنے کی بات ہو یا پھر تلنگانہ کی موجودہ حکومت کی جانب سے پاٹی گڈہ زیر تجویز فلائی اوور کے حوالے سے پائیگاہ خاندان کی عالیشان اور قدیم عمارتوں کو منہدم کرنے کا معاملہ ہو۔ حالانکہ پاٹی گڈہ فلائی زیر تجویز فلائی اور میںمتاثر ہونے کے خدشات سے دوچار خاندانوں نے محکمہ حصول اراضیات سے رابطہ کیا‘ اہلکاروں کو متبادل راستوں کی نشاندہی بھی کی مگر انتظامیہ کسی کی سننے کے لئے ہر گز تیار نہیں ہے۔ایک اندازہ کے مطابق پاٹی گڈہ کی اس گلی میںجہاں پر پائیگاہ پیالس کے بشمول پائیگاہ خاندان کے وارثیں مقیم ہیں 1892ایسے بڑے اور چھوٹے مکانات موجود ہیںجن پر انہدامی کاروائی کے بادل منڈلارہے ہیں۔بتایایہ بھی جاتا ہے کہ اس علاقے میںکبھی پائیگاہ کے امراء اپنے محلات میں رہتے تھے اور ساتھ میں ملازمین کے لئے کوارٹرس بھی تعمیرکی گئی تھی۔ مقطعہ بیگم پیٹ سے مشہور اس علاقے کی ساری اراضیات پائیگاہ امراء کی ہی بتائی جاتی ہے جبکہ بیشتر اراضی پر مرکزی اور ساری حکومتوں کا قبضہ ہے اور جو بچ گئی اس پر لینڈ گرابرس نے قبضہ کرلیا اور منھ مانگی قیمتو ں پر فروخت بھی کردئے ۔ مقطعہ بیگم پیٹ میںبے شمار سرکاری دفاتر بھی موجود ہیں ۔ کچھ اراضی پاٹی گڈہ روڈ پر بچ گئی تھی جہاں پر پائیگاہ امراء کے محلات اور ان کے ملازمین کے کوارٹرس کی نشانات موجود ہیںاس پر بھی حکومت بری نظر ڈال رہی ہے اور غیر ضروری فلائی اوورکے ذریعہ سارے علاقے کو مٹی کے ڈھیر میںتبدیل کرنے کی سازشیں کی جارہی ہیں۔ حکومت کو چاہئے کہ شہر کی ترقی او رٹریفک پر قابوکے نام سے مسلمانوں اور ان کی قیمتی جائیدادوں کو نقصان پہنچانے کی منصوبہ سازی کرنے کے بجائے متبادل راستوں کو تلاش کریں اور مسلمانوں کے اندر اعتماد بحال کریں۔