اسلام آباد: افغان امن عمل کے سربراہ عبداللہ عبداللہ کا کہنا ہے کہ پاکستان اور افغانستان، طالبان کی جانب سے دوحہ میں ہونے والے بین الافغان مذاکرات میں لچک اور تشدد میں کمی کی ضرورت کے حوالے سے ‘ایک پیج’ پر ہیں۔ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق پاکستان کا 3 روزہ دورہ مکمل کرنے کے بعد کابل واپسی سے چند گھنٹے قبل ایک انٹرویو میں افغانستان میں قومی مفاہمت کی اعلی کونسل کے چیئرمین نے کہا کہ ’شہری اور فوجی حکام کے ساتھ بات چیت اچھی رہی، ہم نے تشدد میں کمی کی ضرورت، جنگ بندی کی ضرورت، لچک کا مظاہرہ کرنے کی ضرورت اور دیگر امور پر وسیع تبادلہ خیال کیا اور ہم ایک پیج پر ہیں‘۔تاہم انہوں نے اس خواہش کا اظہار کیا کہ ’طالبان کو پہنچائے جانے والے پیغامات‘ میں ان مطالبات پر زور دیا جائے جو اس وقت دوحہ میں بین الافغان مذاکرات میں حصہ لے رہے ہیں۔عبداللہ عبداللہ کا نیا منصب سنبھالنے کے بعد پاکستان کا پہلا دورہ تھا جس کا مقصد پاکستان کے تعاون کا حصول تھا جیسا کہ انہوں نے اسلام آباد کے انسٹی ٹیوٹ آف اسٹریٹجک اسٹڈیز میں اپنی تقریر کے دوران ‘عمل کو آئندہ مرحلے تک دیکھنے’ کو کہا تھا۔جس کے لیے دونوں فریقین کی جانب سے پاک ۔ افغانستان دو طرفہ تعلقات کو بہتر بنانے کے امکانات کی تلاش پر یکساں زور دیا تھا۔اس دورے کے اختتام تک دونوں فریقین نے مشورہ دیا کہ دو طرفہ تعلقات میں صفحہ بدلنے کے لیے گراؤنڈ تیار کرلیا گیا ہے۔وزیر اعظم نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم عمران خان نے کہا ہیکہ افغانستان کی اعلیٰ کونسل برائے قومی مفاہمت کے چیئرمین ڈاکٹر عبدآ عبدآ سے ان کی ملاقات خوش گوار رہی ہے اور ہماری نہایت دلچسپ گفتگو کا خلاصہ یہ تھا کہ ماضی سیکھنے کے لیے تو ایک انمول استاد ہے مگر اس میں زندہ رہنا ممکن نہیں ہے‘۔
