پاکستان، ایران کیخلاف طاقت کے استعمال کا مخالف

   

اسلام آباد ۔ 31 جنوری (ایجنسیز) پاکستان نے ایران کے خلاف طاقت کے استعمال کی مخالفت کرتے ہوئے زور دیا کہ تمام تنازعات سفارت کاری کے ذریعے حل کیے جانے چاہییں۔ ادھر امریکی صدر نے ’امید‘ ظاہر کی کہ ایران کے خلاف فوجی کارروائی کی ضرورت نہیں پڑے گی۔ جمعرات کی پاکستان کے وزیر اعظم، وزیر خارجہ اور دفتر خارجہ کی جانب سے جاری الگ الگ بیانات میں ایران کے خلاف طاقت اور جبر کے استعمال کی مخالفت کرتے ہوئے، تمام تنازعات کو بات چیت اور سفارت کاری کے ذریعے حل کرنے پر زور دیا گیا۔ یہ بیانات ایسے وقت پر دیے گئے ہیں، جب تہران پر مغربی دباؤ میں اضافہ ہو رہا ہے، جس میں خلیج میں امریکی بحری سرگرمیوں میں توسیع اور یورپ کی جانب سے نئی پابندیاں نیز پاسداران انقلاب کو دہشت گرد تنظیم قرار دیا جانا شامل ہیں۔ اپنے بیان میں وزیراعظم شہباز شریف نے خطے میں امن، سلامتی اور ترقی کے فروغ کے لیے مسلسل مکالمے اور سفارتی روابط کی اہمیت پر زور دیا۔ دفترِ خارجہ نے کہا کہ نائب وزیراعظم اور وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار نے اپنے ایرانی ہم منصب عباس عراقچی سے بات چیت کرتے ہوئے خطے کی بدلتی ہوئی صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا اور پاکستان کے مؤقف کا اعادہ کیا۔ اسحاق ڈار نے کہا کہ سفارت کاری ہی آگے بڑھنے کا واحد قابلِ عمل راستہ ہے۔ جمعرات کو ہفتہ وار بریفنگ کے دوران ترجمان دفتر خارجہ طاہر اندرابی نے کہا کہ پاکستان اپنے برادر ملک ایران کے اندرونی معاملات میں مداخلت کی سختی سے مخالفت کرتا ہے۔ ہم طاقت کے استعمال کے بھی مخالف ہیں اور پابندیوں کے نفاذ کی بھی مخالفت کرتے رہے ہیں اور اس حوالے سے ہمارا مؤقف بدستور برقرار ہے۔ طاہر اندرابی کے مطابق خطہ کسی بھی جنگ کا متحمل نہیں ہو سکتا۔