پاکستان:بلوغت اورکم سنی کی شادی پرشرعی عدالت کا فیصلہ

   

اسلام آباد: ’اسلام، بلوغت اورکم سنی کی شادی‘ کے حوالے سے پاکستان میں بھی بحث جاری ہے۔ وفاقی شرعی عدالت نے ’سندھ چائلڈ میرج ریسٹرینٹ ایکٹ 2013‘ کیخلاف درخواست خارج کرتے ہوئے کہا ہیکہ یہ قانون اسلامی احکامات سے متصادم نہیں ہے۔ وفاقی شرعی عدالت نے مشاہدہ کیا کہ شادی کیلئے کم از کم عمر مقرر کرنے کا اقدام اسلامی احکامات کے عین مطابق ہے جیسا کہ قرآن پاک اور سنت میں بیان کیا گیا ہے۔قائم مقام چیف جسٹس ڈاکٹر سید محمد انور اور جسٹس خادم حسین ایم شیخ پر مشتمل دو رکنی بنچ نے مزید کہا کہ درخواستوں میں اٹھائے گئے کچھ سوالات سماجی اقدار سے متعلق ہیں جبکہ کچھ پہلو منتخب نمائندوں سے غور و خوض کا مطالبہ کرتے ہیں۔ یہ درخواست علی اظہر نامی شہری کی جانب سے دائر کی گئی تھی، جس نے 2020 میں مبینہ طور پر ایک نابالغ عیسائی لڑکی سے اسلام قبول کرنے کے بعد شادی کی تھی۔سندھ ہائی کورٹ نے فیصلہ دیا تھا کہ لڑکی کیلئے قانونی طور پر شادی کرنا ممکن نہیں ہے کیونکہ نابالغ ہونے کے سبب اس کی رضامندی کی کوئی قانونی اہمیت نہیں ہے، عدالت نے پولیس کو ہدایت کی کہ اس کے مبینہ شوہر کیخلاف قانون کی خلاف ورزی پر کارروائی کی جائے۔ زیر بحث قانون کے تحت سندھ میں 18 سال سے کم عمر کے کسی بھی نابالغ شہری کی شادی پر پابندی ہے اور ایسا کرنے والے مرد اور دونوں فریقین کے والدین یا سرپرست کیلئے سزائیں بھی طے ہیں۔قرآن پاک اور احادیث کی بعض آیات کو بنیاد بنا کر درخواست گزار نذر تنولی کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ مرد اور عورت دونوں کیلئے شادی کی کم از کم عمر 18 سال مقرر کرنا اسلام کے احکام کیخلاف ہے لیکن سندھ کے ایک اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل صغیر احمد عباسی نے دلیل دی کہ سندھ ہائیکورٹ 1929 کے چائلڈ میرج ریسٹرینٹ ایکٹ کیخلاف دائر ’ریاست بمقابلہ فاروق عمر بھوجا‘ کے کیس میں ایک اسی طرح کی درخواست پہلے ہی خارج کرچکی ہے۔
، اس کیس میں درخواست گزار نے استدعا کی تھی کہ عدالت لڑکیوں کی کم از کم شادی کی عمر 16 برس مقرر کرے۔