نئی دہلی،18 مارچ (یو این آئی) ہندوستان کے سابق کپتان سنیل گواسکر نے ‘دی ہنڈریڈ’ کے آئندہ سیزن کے لیے سن رائزرز لیڈزکے ایک فیصلے پر شدید ناراضگی کا اظہار کیا ہے ۔ سن رائزرز نے پاکستانی اسپنر ابرار احمد کو اپنی ٹیم میں شامل کیا ہے ، جس پر گواسکر نے کہا ہے کہ پاکستانی کرکٹر پر لگایا گیا پیسہ بالواسطہ طور پر ہندوستانی جوانوں اور عام شہریوں کی جان لینے میں مددگار ثابت ہوتا ہے ۔ ہیڈنگلے کی اس فرنچائز کی ملکیت سن گروپ کے پاس ہے ، جو آئی پی ایل میں سن رائزرز حیدرآباد کی ٹیم بھی چلاتا ہے ۔ اس ٹیم کو پہلے ناردرن سوپر چارجرزکے نام سے جانا جاتا تھا۔گزشتہ ہفتے ہونے والی نیلامی میں ابرار احمدکو تقریباً2 کروڑ 34 لاکھ روپے کی خطیر رقم کے عوض حاصل کیا گیا تھا۔ اس فیصلے کے خلاف سوشل میڈیا پر سخت ردعمل دیکھنے کو ملا، خاص طور پر مئی2025 میں فوجی تصادم کے بعد دونوں ممالک کے تعلقات میں مزید تلخی آئی ہے ۔ یاد رہے کہ 2009 سے پاکستانی کھلاڑی آئی پی ایل سے باہر ہیں اور 13-2012کے بعد سے کوئی دو طرفہ سیریز نہیں کھیلی گئی ہے ۔گواسکر نے اخبار مڈڈے میں اپنے کالم میں لکھا ایک ہندوستانی مالک کی جانب سے پاکستانی کھلاڑی کو خریدنے پر ہونے والا تنازعہ حیران کن نہیں ہے ۔ نومبر2008 کے ممبئی حملوں کے بعد سے ہندوستانی فرنچائز مالکان نے پاکستانی کھلاڑیوں کو مکمل طور پر نظر اندازکیا ہے ۔انہوں نے مزید سخت الفاظ استعمال کرتے ہوئے کہا پاکستانی کھلاڑی کو دی گئی فیس، جو بعد میں ٹیکس کی صورت میں ان کے ملک کو جاتی ہے اور جس سے ہتھیار خریدے جاتے ہیں، وہ بالواسطہ طور پر ہندوستانی فوجیوں اور شہریوں کی موت کا سبب بنتی ہے ۔ سن گروپ ایک میڈیا ادارہ ہے جس کے بانی کلانیدھی مارن ہیں اور نیلامی کے وقت ان کی بیٹی کاویہ مارن موجود تھیں۔ اگرچہ ہیڈ کوچ ڈینیئل ویٹوری نے کہا کہ انہیں کسی خاص کھلاڑی پر بولی لگانے سے نہیں روکا گیا تھا، لیکن گواسکر کا ماننا ہے کہ مالکان کی جانب سے واضح ہدایات ہونی چاہیے تھیں۔ انہوں نے لکھا،چاہے ادائیگی ہندوستانی ادارے کی طرف سے ہو یا اس کی غیر ملکی شاخ کی طرف سے ، اگر مالک ہندوستانی ہے تو وہ ہندوستانی جانی نقصان میں حصہ دار بن رہا ہے ۔ یہ اتنی ہی سیدھی بات ہے ۔ واضح رہے کہ ‘دی ہنڈریڈ’ کی نیلامی میںابرار واحد پاکستانی رہے ۔