پاکستانی سکھ لڑکی کا اغوا، قبولیت اسلام اور شادی

   

Ferty9 Clinic

گورنر کی درخواست کے باوجود متاثرہ لڑکی کا گھر واپسی سے انکار
لاہور۔/31اگسٹ، ( سیاست ڈاٹ کام ) پاکستانی صوبہ پنجاب میں ایک مسلم شخص سے شادی سے قبل ایک 20 سال سے کم عمر کی سکھ لڑکی کے مبینہ اغوا اور زبردستی مشرف بہ اسلام کروائی گئی لڑکی نے صوبائی گورنر کی درخواست کے باوجود محض اپنی جان کو لاحق خطرات کے اندیشوں کے تحت گھر واپس ہونے سے انکار کردیا۔ پنجاب کے گورنر چودھری محمد سرور نے لاہور کے شیلٹر ہوم میں اس لڑکی سے ملاقات کے دوران درخواست کی تھی کہ وہ اپنے گھر واپس ہوجائے لیکن اس نے وہاں اپنی زندگی کو خطرہ بتاتے ہوئے واپسی سے انکار کردیا۔ یہ لڑکی ایک سکھ گرنتھی کی بیٹی بتائی گئی ہے جمعہ کو اعتراف کیا تھا کہ وہ اپنے محلہ کے نوجوان محمد حسن سے اپنی مرضی کے مطابق شادی کی ہے۔ بعد ازاں جج نے اس لڑکی کو دارالامان ( شیلٹر ہوم ) کو بھیج دیا تھا۔ اس لڑکی کے خاندان نے الزام عائد کیا تھا کہ ان کی بیٹی کو بندوق کی نال پر ڈرا دھمکاکر اسلام میں شامل کیا گیا ہے اور ایک مسلم نوجوان سے زبردستی شادی کروائی گئی۔ اس کے خاندان نے کہا کہ لڑکی کی عمر 18 سال ہے۔