٭ لوک سبھا میں دستور کی دفعہ 370 سے متعلق مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ کی قرارداد ، جان دینے کا عہد
٭ جموں و کشمیر کی تقسیم کے لئے آمرانہ اختیارات کا مرکز پر راہول گاندھی کا الزام
٭ پاکستان مخالف ہند دہشت گردی میں شدت کا خواہاں : ہندوستانی فوج
٭ دفعہ 370 سے عدم ہم آہنگی کو فروغ ، بھارتیہ جن سنگھ کے بانی شیاما پرساد مکرجی کے بھتیجے کا الزام
نئی دہلی۔ 6 اگسٹ ( سیاست ڈاٹ کام) مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ نے آج لوک سبھا میں کہا کہ پاکستانی مقبوضہ کشمیر اور اقصائے چین جموں و کشمیر کا ایک حصہ ہیں اور ہم اپنی زندگیاں ان کیلئے قربان کرنے کیلئے تیار ہیں۔ وہ لوک سبھا میں قرارداد پیش کررہے تھے جس کا مقصد جموں و کشمیر تنظیم جدید بل 2019 کی منظوری تھا۔ امیت شاہ نے کہا کہ دیرینہ مطالبہ تھا کہ لداخ کو مرکز زیرانتطام علاقہ کا موقف قرار دیا جائے اور نریندر مودی حکومت اس دیرینہ مطالبہ کی تکمیل کررہی ہے۔ کشمیر ‘ ہندوستان کا اٹوٹ حصہ ہے۔ اس بات میں کوئی شک نہیں جب ہم کہتے ہیں کہ جموں و کشمیر ‘ تو اس میں پاکستانی مقبوضہ کشمیر اور اقصائے چین دونوں شامل ہوتے ہیں۔ مرکزی وزیرداخلہ نے کہا کہ اقصائے چین ‘ لداخ سمیت مرکز زیرانتظام علاقہ ہوگا۔ دونوں کی کونسل ایک ہی ہوگی اور سرگرم رہے گی۔ انہوں نے کہا کہ کیا پاکستانی مقبوضہ کشمیر میں قانون کی نئی دفعات نافذ کی جائیں گی؟ امیت شاہ نے کہا کہ ہم اس کیلئے اپنی جانوں کی قربانی تک دینے کیلئے تیار ہیں۔ اقصائے چین‘ لداخ کا ایک وسیع حصہ ہے جس پر فی الحال چین قبضہ کئے ہوئے ہے۔ امیت شاہ نے کہا کہ صدر نے دستور ہند کے تحت کل 2019 کا حکمنامہ جاری کیا ہے اور ان کے حکمنامہ کی تمام دفعات جموں و کشمیر کے بارے میں‘ دستور ہند کے مطابق ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ دستور کی دفعہ 35 A بھی حذف کردی گئی ہے۔ ایوان میں شوروغل کے مناظر دیکھے گئے۔ امیت شاہ کے ساتھ کانگریس ارکان کی زبانی تکرار ہوئی۔ کانگریس کے قائد برائے لوک سبھا ادھیر رنجن چودھری نے ان قوانین کو متعارف کروانے کے جواز پر اعتراض کیا اور کہا کہ یہ داخلی معاملہ ہے‘ اس لئے اقوام متحدہ صورتحال 1948 سے نظر نہیں رکھ سکتا۔ انہوں نے کہا کہ اس سلسلہ میں شملہ سمجھوتہ اور لاہور اعلامیہ موجود ہے۔ کیا یہ ایک باہمی مسئلہ یا داخلی معاملہ ہے۔ چودھری نے کہا کہ برسراقتدار پارٹی کے ارکان اس پر شوروغل مچارہے ہیں لیکن اس بارے میں وضاحت ضروری ہے۔ امیت شاہ نے کہا کہ جموں و کشمیر کے بارے میں قانون سازی کا نہ صرف قانونی جواز موجود ہے بلکہ یہ ہمارا دستوری حق بھی ہے۔
جب اپوزیشن قائدین نے سوال کیا کہ مرکزی وزیرداخلہ کے تیور جارحانہ معلوم ہوتے ہیں‘ امیت شاہ نے کہا کہ یہ تیور جارحانہ اس لئے ہیں کہ آپ کے خیال میں پاکستانی مقبوضہ کشمیر‘ ہندوستانی علاقہ نہیں ہے۔ امیت شاہ سے تیواری نے کہا کہ جموں و کشمیر کو مرکزی زیرانتظام علاقہ قرار نہیں دیا جاسکتا کیونکہ اس کی ایک اسمبلی‘ ایک چیف منسٹر اور ارکان اسمبلی ہیں۔ حکومت نے پیر کے دن دستور کی دفعہ 370 کی چند دفعات کو منسوخ کرکے ریاست کو دو مرکز زیرانتظام علاقوں جموں و کشمیر اور لداخ میں تبدیل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ دریں اثناء کانگریس قائد راہول گاندھی نے حکومت پر الزام عائد کیا کہ وہ عاملانہ اختیارات کا ریاست جموں و کشمیر کے ٹکڑے کرنے کیلئے استحصال کررہی ہے جس کے قومی سلامتی پر سنگین اثرات مرتب ہوں گے۔ انہوں نے بھگوا پارٹی کے کشمیر شاخ کے ارکان پر الزام عائد کیا کہ وہ پوشیدہ مقامات کو پوشیدہ رکھنے سے قاصر رہے ہیں اور حکومت کا جموں و کشمیر کی تقسیم کا فیصلہ غیردستوری اور غیرجمہوری ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ فوری طور پر اس تجویز سے دستبرداری اختیار کی جائے۔ راہول گاندھی نے کہا کہ یہ اقدام کم نظری کا نتیجہ اور احمقانہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس سے دہشت گردوں کو مرکزی حکومت نے جموں و کشمیر میں اقتدار کا جو خلاء پیدا کیا ہے‘ اس کو پر کرنے میں مدد ملے گی۔ قومی یکجہتی یکطرفہ طور پر جموں و کشمیر کے دو ٹکڑے کرنے پر یا عوامی نمائندوں کو قید کرنے اور دستور ہند سے انحراف پر منحصر نہیں ہے۔ کیونکہ دستور ہند ملک کے عوام نے تشکیل دیا ہے اور اسی نے ہی اراضی کے قطعات قائم کئے ہیں۔ راہول گاندھی کا دفعہ 370 کی بعض دفعات کو حذف کرنے فیصلے پر پہلا ردعمل تھا جس کا مقصد جموں و کشمیر کے سماجی موقف کا خاتمہ کرنا ہے۔ جموں سے موصولہ اطلاع کے بموجب ہندوستانی فوج نے کہا کہ پاکستان نے جموں و کشمیر میں خط قبضہ پر دہشت گردوں کی طاقت میں اضافہ کرنے کی کوشش میں شدت پیدا کردی ہے اور جموں و کشمیر میں دراندازی کیلئے دہشت گردوں پر دباؤ ڈال رہا ہے۔ جنرل آفیسر کمانڈنگ انچیف نادرن کمانڈ لیفٹنٹ جنرل رنبیر سنگھ نے کہا کہ پاکستان نے جنگ بندی کی خلاف ورزیوں کا آغاز کردیا ہے۔ اگر پاکستانی فوج خلل اندازی کی اس کوشش کو جاری رکھے تو ہندوستانی فوج اس کی یکسوئی کیلئے اور اس کے انسداد کیلئے منہ توڑ جواب دے گی۔ حکومت کی جانب سے ایک دن پہلے جموں و کشمیر کے خصوصی موقف کو تبدیل کردیا گیا ہے اور ریاست کو دو مرکزی زیرانتظام علاقوں میں تقسیم کردینے کی تجویز رکھی ہے۔ فوج کے کمانڈر نے کہا کہ گزشتہ چند دن سے پاکستان کی دہشت گردوں کی طاقت میں اضافہ کرنے اور خط قبضہ پر زیادہ حملے کرنے کی طاقت میں اضافہ کی کوشش میں شدت پیدا کردی ہے۔ دریں اثناء سابق صدر جن سنگھ شیاما پرساد مکھرجی کے بھتیجے نے کہا کہ دستور کی دفعہ 370 نے عدم ہم آہنگی کو فروغ دیا ہے اور اسے تبدیل کرنے کی ضرورت تھی۔ وہ کولکتہ میں دستور کی دفعہ 370 کے بارے میں اپنا ردعمل ظاہر کررہے تھے۔
