ہندوستا ن کا سخت اعتراض ،کشیدگی میں مزیداضافہ گلگت بلتستان سمیت مقبوضہ کشمیر کا پورا علاقہ ہندوستان کا ہے ،ہندوستان کا اٹل موقف
اسلام آباد / نئی دہلی /3 جون (سیاست ڈاٹ کام) چین نے ہندوستانی اعتراضات کے باوجود پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں ایک ہزار سے زیادہ میگاواٹ کے ایک نئے پاور پلانٹ کے منصوبے پر اتفاق کیا ہے۔یہ پاور پلانٹ چین اور پاکستان کے درمیان اقتصادی راہداری (سی پیک) کے تحت دریائے جھیلم کے قریب تعمیر کیا جائے گا۔ یہ نئی پیش رفت ایسے وقت ہوئی ہے جب مشرقی لداخ اور سکّم میں سرحد پر ہندوستانی اور چینی فوجیں آمنے سامنے کھڑی ہیں۔ چین نے پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں ایک ہزار 124 میگا واٹ بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت والے ہائیڈرو پاور پلانٹ بنانے پر رضامندی ظاہر کی ہے۔اطلاعات کے مطابق پاکستان میں توانائی کے وزیر عمر ایوب نے اس نئے منصوبے سے متعلق کہا ہے کہ کوہلا ہائیڈرو پاور پلانٹ کے منصوبے پر چینی کمپنی ‘تھری گارجیز کارپوریشن’، پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کی انتظامیہ اور پاکستانی بورڈ ‘پرائیویٹ پاور اینڈ انفراسٹرکچر’ نے اتفاق کر لیا ہے۔ہندوستانی ذرائع ابلاغ کے مطابق یہ تقریباً ڈھائی ارب امریکی ڈالر کا بڑا پروجیکٹ ہے جو پاکستانی مقبوضہ کشمیر میں بجلی پیدا کرنے کے لیے تعمیر کیا جائے گا۔ سی پیک کا مقصد چین کو پاکستان کی معروف بندرگاہ گوادر کو روڈ اور ریل کے ذریعے مربوط کرنا ہے۔ اس سے چین کو بحیرہ عرب تک براہ راست رسائی حاصل ہو جائے گی۔ یہ راہداری پاکستانی مقبوضہ کشمیرسے گزرتی ہے اور ہندوستان اس کی مخالفت کرتا رہا ہے۔ہندوستان نے اس راہداری کے تعلق سے چین پر کئی بار اعتراض کیا ہے اور پاکستانی مقبوضہ کشمیرمیں ایسی کسی بھی کارروائی کا مخالف ہے۔ گزشتہ ماہ پاکستان نے جب گلگت بلتستان میں ایک ڈیم بنانے کے پروجیکٹ پر چین کے ساتھ معاہدہ کیا تھا، تب ہندوستان نے سخت اعتراض کیا تھا۔
ہندوستان کا کہنا تھا کہ گلگت بلتستان سمیت پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کا پورا علاقہ ہندوستان کا ہے اور پاکستان نے اس پر غیر قانونی قبضہ کر رکھا ہے۔دوسری طرف پاکستان کا موقف ہے کہ ہندوستان کشمیر کے ایک حصے پر جابرانہ طور پر قابض ہے اور کشمیری عوام کی مخالفت کے باوجود فوجی طاقت کے ذریعے ہندوستان کشمیری عوام پر اپنی مرضی مسلط کر رہا ہے۔ جہاں ہندوستان نے کشمیر میں اس وقت تقریبا ًدس لاکھ فوج تعینات کررکھے ہیں۔گلگت بلتستان میں پاکستان نے چین کے ساتھ 442 ارب ڈالر کی لاگت کے دائیمیر بھاشا ڈیم بنانے کا معاہدہ کیا ہے۔ ہندوستان نے اس پر اعتراض کرتے ہوئے کہا تھا کہ جموں، کشمیر، لداخ سمیت تمام علاقے ہندوستان کے حصے رہے ہیں، ہیں اور مستقبل میں بھی رہیں گے۔ ”ہم پاکستان اور چین دونوں کو پاکستان کے زیر قبضہ ہندوستانی علاقوں میں ایسے پروجیکٹس سے متعلق اپنے اعتراضات اور تشویشات سے آگاہ کرتے رہے ہیں۔”حال ہی میں جب گلگت بلتستان میں پاکستان نے ریاستی اسمبلی کے انتخابات کا اعلان کیا تھا تو اس پر بھی ہندوستان نے سخت اعتراض کیا تھا۔ ہندوستان نے اس کے رد عمل میں موسم سے متعلق اپنے یومیہ بلیٹنوں میں گلت بلتستان اور مظفرآباد کو بھی شامل کرنا شروع کردیا ہے۔ لیکن چین اور پاکستان ہندوستان کے ان بیانات کو نظرانداز کرتے ہوئے سی پیک کے تحت اس پورے علاقے میں ترقیاتی منصوبوں کا جال پھیلاتے جا رہے ہیں۔
