’’پاکستان اس لیے نہیں بنا کہ نواز اور زرداری، ٹاٹا اور برلا بن جائیں‘‘

   

جنہیں عوامی صحت کی ذمہ داری اُٹھانی تھی وہ کھانسی پر بھی لندن ،امریکہ اوردبئی جارہے ہیں:عمران خان

اسلام آباد:عمران خان نے کہا کہ پاکستان اسلامی فلاحی ریاست کے خواب پر وجود میں آیا ہے یہ ملک اس لیے قائم نہیں ہوا تھا کہ نواز شریف اور زرداری عوام کی دولت لوٹ کر ٹاٹا اور برلا بن جائیں۔فیصل آباد میں نیا پاکستان صحت کارڈ کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم پاکستان نے کہا کہ یہ اقدام پاکستان کو ریاست مدینہ کی طرف لے جانے کے لیے اٹھایا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ 74 سال میں کئی وزیر اعظم آئے کبھی کسی نے یہ نہیں سوچا کہ غریب گھرانے میں کوئی بیماری آجائے تو اس کا علاج کروانا کتنا مشکل ہے، ریاست نے کھبی صحت کی طرف توجہ نہیں دی۔ان کا کہنا تھا کہ ہمیں سمجھنا چاہیے کہ پاکستان کسی وجہ سے بنا تھا، ہم سب کو معلوم ہونا چاہیے کہ ہندوستان کے سارے مسلمانوں نے پاکستان کے لیے ووٹ دیا تھا، حالانکہ انہیں معلوم تھا کہ تمام مسلمانوں کو پاکستان نہیں آنا ہے۔وزیر اعظم نے کہا کہ بانیان پاکستان نے ملک کو اسلامی فلاحی ریاست بنانے کا خواب دیکھا تھا، اس کا مطلب یہ تھا کہ ہم نے پاکستان کو نبیﷺ نقش قدم پر چلتے ہوئے ایک اسلامی فلاحی ریاست بنانا ہے لیکن پاکستان کی تاریخ میں اس بارے میں کسی حکومت نے نہیں سوچا۔انہوں نے کہا کہ وقت کے ساتھ ساتھ امیروں اور غریبوں میں فاصلے بڑھتے گئے، میں اور میری ساری بہنیں سرکاری ہسپتالوں میں پیدا ہوئی تھیں لیکن اب صاحب حیثیت افراد نجی ہسپتالوں میں جاتے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ آہستہ آہستہ ملک کے سرکاری ہسپتال خستہ حال ہوتے گئے اور نجی ہسپتالوں کا رجحان بڑھنے لگا۔وزیراعظم نے کہا کہ جن لوگوں نے اپنی عوام کی صحت کی ذمہ داری اٹھانی تھی وہ کھانسی پر بھی لندن, امریکا، دبئی جارہے ہیں، انہیں کیا معلوم پاکستان کی عوام کس حالت ہیں ہے۔ عمران خان نے کہا کہ یاد رکھیں کہ پاکستان تحریک انصاف نے زرداری کو جیل میں نہیں ڈالا بلکہ ہمیں ان کا پیٹ پھاڑ کا پیسہ نکالنا تھا۔انہوں نے کہا کہ پاکستان اس لیے نہیں بنایا تھا کہ ٹاٹا اور برلا کی طرح نواز شریف اور زرداری امیر ہوجائیں، انہوں نے کبھی نہیں سوچا کہ عام شہری ہماری ذمہ داری ہے۔عمران خان کا کہنا تھا کہ حکمران طبقے نے ملک میں عوام کے لیے ایک الگ جبکہ اپنے لیے الگ پاکستان بنادیا۔انہوں نے کہا کہ میں نے دنیا دیکھی ہے، میں نے مغرب کے خوشحال گھرانے دیکھے ہیں، اللہ نے مجھے سب کچھ دیا ہے مجھے کسی چیز کی ضرورت نہیں ہے، میں صرف سیاست میں ان دو خاندانوں کی وجہ سے آیا تھا کیونکہ ان کے ہوتے ہوئے پاکستان کا کوئی مستقبل نہیں تھا۔انہوں نے کہا کہ سیاست میں آنے کی دوسری وجہ یہ تھی کہ پاکستان اسلامی فلاحی ریاست کے نظریے پر بنا تھا اس نظریے پر ملک کو چلانا تھا، میں آزاد پاکستان میں پیدا ہونے والی پہلی نسل میں سے ہوں۔عمران خان کا کہنا تھا کہ پنجاب کے سابق وزیر اعلیٰ کی حکومت کے دوران ان کے بیٹے کی شوگر مل کے چپڑاسی کے اکاؤنٹ میں اربوں روپے آجاتے تھے، آج وہ پارلیمنٹ میں کھڑے ہوکر ڈیڑھ ڈیڑھ گھنٹے کی تقریر کرتے ہیں، ادھر آصف زرداری کو دیکھ لیں پاپڑ والے اور چینی والے کے اکاؤنٹ میں کروڑوں روپے آرہے ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ ایک مریض لندن علاج کروانے گیا تھا، کہا گیا کہ انہیں دل کی بیماری ہے اور دل کی بیماری کے ساتھ سیڑھیوں پر چل رہے ہیں اور یہاں کے وکیل کہتے ہیں کہ انہیں پھر سے موقع دو ان کی تاحیات پابندی ختم کرو۔انہوں نے کہا کہ جب ملک کر تباہ کرنا ہو تو بم مارنے کی ضرورت نہیں، کرپشن عام کردو، جب کرپشن سے عام ہوگی تو کوئی محنت کیوں کرے گا۔