اسلام آباد ؍ کابل ۔ 30 مارچ (ایجنسیز) حکام کے مطابق دونوں جانب سے توپ خانے اور بھاری ہتھیاروں کا استعمال کرتے ہوئے سرحد پار اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔ پاکستان اور افغانستان کے درمیان ایک مرتبہ پھر سرحد پر شدید فائرنگ کا تبادلہ ہوا ہے، جس کی دونوں ممالک کی جانب سے تصدیق کی گئی ہے۔ یہ پیش رفت ایسے وقت پر ہوئی، جب چند روز قبل دونوں جانب سے عارضی جنگ بندی کا اعلان کیا گیا تھا اور اسی دوران اسلام آباد نے امریکہ اور ایران کے مابین ممکنہ مذاکرات کی میزبانی کی امید بھی ظاہر کی۔ یہ سرحدی جھڑپیں اتوار کو اس وقت ہوئیں، جب پاکستان نے مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کم کرنے کیلئے علاقائی طاقتوں سعودی عرب، ترکی اور مصر کے وزراء خارجہ کی اپنے وفاقی دارالحکومت میں میزبانی کی اور اعلان کیا کہ آئندہ دنوں میں امریکہ اور ایران کے مذاکرات بھی اسلام آباد میں ہی ہو سکتے ہیں۔ حکام کے مطابق دونوں جانب سے توپ خانے اور بھاری ہتھیاروں کا استعمال کرتے ہوئے افغانستان کے صوبہ کنڑ اور پاکستان کے سرحدی ضلع باجوڑ میں اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔ کابل میں طالبان حکومت کے نائب ترجمان حمد اللہ فطرت کے مطابق پاکستانی فائرنگ سے کم از کم ایک شخص ہلاک اور 16 زخمی ہوئے، جن میں زیادہ تر خواتین اور بچے شامل ہیں۔ پاکستانی سیکوریٹی حکام کا کہنا ہے کہ انہوں نے صرف افغانستان کی جانب سے ہونے والی گولہ باری کا جواب دیا اور کسی شہری مقام کو نشانہ نہیں بنایا۔ پاکستانی حکومت کے ایک اہلکار نے افغان دعووں کو مبالغہ آمیز قرار دیتے ہوئے کہا، ’’افغان جانب سے کچھ معمولی خلاف ورزیاں ہوئیں، جن کا ہم نے اسی علاقہ میں جواب دیا۔‘‘ دونوں ممالک کے حکام نے میڈیا سے بات کرنے کیلئے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط رکھی، جبکہ پاکستانی فوج نے اس معاملے پر تبصرہ کرنے کی درخواست کا کوئی جواب نہ دیا۔ گزشتہ ماہ دونوں ممالک کے درمیان حالیہ برسوں کی بدترین لڑائی ہوئی تھی، جس میں دونوں جانب بھاری جانی نقصان ہوا تھا۔
کابل نے دعویٰ کیا تھا کہ اس ماہ افغان دارالحکومت میں منشیات کے عادی افراد کے ایک بحالی مرکز پر پاکستانی فضائی حملے میں 400 سے زائد افراد ہلاک ہوئے، جس کے بعد دونوں ممالک نے لڑائی معطل کرنے کا اعلان کیا تھا۔ پاکستان نے طالبان کے اس دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس نے ’’درست نشانے کے ساتھ فوجی تنصیبات اور دہشت گردوں کے ڈھانچے کو نشانہ بنایا۔‘‘ اس کے بعد عیدالفطر کے موقع پر جنگ بندی کا اعلان کیا گیا تھا، جس کی درخواست ترکی، قطر اور سعودی عرب نے بھی کی تھی، تاہم اسلام آباد نے گزشتہ ہفتہ اس سیزفائر کے خاتمہ کا اعلان کر دیا تھا۔ کابل نے تاحال باضابطہ طور پر یہ اعلان نہیں کیا کہ آیا اس کی جانب سے جنگ بندی برقرار ہے یا نہیں۔ اسلام آباد افغان طالبان پر الزام عائد کرتا ہے کہ وہ کالعدم شدت پسند تنظیم تحریک طالبان پاکستان کے ان جنگجوؤں کو پناہ اور حمایت فراہم کرتے ہیں، جو پاکستان میں حملے کرتے ہیں تاہم کابل ان الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہتا ہے کہ یہ پاکستان کا داخلی مسئلہ ہے۔