پاکستان بدترین کرپٹ ممالک میں سے ایک : ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل

   

گذشتہ تین برسوں میں پاکستان کی عالمی درجہ بندی 23 درجہ تنزلی کا شکار

نیویارک : بدعنوانی پر نظر رکھنے والے عالمی ادارے ‘ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل’ نے 180 ملکوں میں کرپشن کی صورتِ حال سے متعلق رپورٹ جاری کر دی ہے۔ پاکستان کرپٹ ملکوں کی فہرست میں124 سے 140 ویں نمبر پر آ گیا ہے۔ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کے مطابق پاکستان کا 2020 میں کرپشن پرسیپشن اسکور 31 تھا جو کم ہو کر 2021 میں 28 ہو گیا ہے۔ یعنی 2020 کے مقابلے میں پاکستان میں کرپشن میں تین درجہ اضافہ ہوا ہے۔گزشتہ دس برسوں کے دوران آخری بار پاکستان کا سب سے زیادہ کرپشن پرسپشن اسکور 2012 میں 28 تھا جو ایک مرتبہ پھر دس برسوں بعد 28 ہو گیا ہے۔ یعنی 2012 میں پاکستان میں جو کرپشن کا لیول تھا ایک دہائی بعد پاکستان اسی مقام پر کھڑا ہے۔یاد رہے کہ ملکوں میں کرپشن کے حساب سے انہیں اسکور دیا جاتا ہے جو صفر سے 100 تک ہوتا ہے۔ 100 اسکور حاصل کرنے والے ملک کرپشن سے پاک سمجھے جاتے ہیں جب کہ صفر اسکور والے ملکوں کو انتہائی کرپٹ سمجھا جاتا ہے۔ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل نے منگل کو جاری کردہ اپنی رپورٹ میں قرار دیا کہ پاکستان میں بدعنوانی میں اضافہ ہوا ہے اور ملک میں ہر سطح پر رشوت ستانی موجود ہے۔ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کے مطابق گزشتہ 10 برسوں کے دوران پاکستان کا سب سے نمایاں پرسپشن اسکور 2018 میں 33 تھا جس کے بعد اس میں مسلسل کمی واقع ہو رہی ہے۔یعنی ملک کرپشن کی جانب بڑھ رہا ہے۔حکمراں جماعت ‘پاکستان تحریکِ انصاف’ ملک سے بدعنوانی کے خاتمے کا عزم لے کر 2018 میں برسرِ اقتدار آئی تھی لیکن اس کے تین سالہ دورِ حکومت میں کرپشن انڈیکس کی عالمی درجہ بندی میں پاکستان تنزلی کا شکار ہے۔سن 2018 میں پاکستان کرپٹ ملکوں کی عالمی درجہ بندی میں 117 نمبر پر تھا۔ سال 2019 میں یہ تین درجہ تنزلی کے بعد 120 اور پھر 2020 میں مزید چار درجے گر کر 124 درجے پرچلا گیا تھا۔ گزشتہ تین برسوں کے دوران پاکستان ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی عالمی درجہ بندی میں مجموعی طور پر 23 درجے تنزلی کا شکار ہو چکا ہے۔