پاکستان ‘ سعودی عرب کا 2 بلین ڈالرس کا قرض واپس ادا کردیگا

   

Ferty9 Clinic

اسلام آباد۔ پاکستان کی جانب سے بہت جلد سعودی عرب کا 2 بلین ڈالرس کا قرض واپس کیا جاسکتا ہے ۔ کہا گیا ہے کہ پاکستان اپنے بیرونی زر مبادلہ کے ذخائر کو پیش نظر رکھتے ہوئے دوسرے ذرائع سے قرض حاصل کرنے کی کوشش بھی کر رہا ہے ۔ پاکستانی وزارت فینانس کے ذرائع نے بتایا کہ ایک بلین ڈالرس کے سعودی قرض کی معیاد آئندہ مہینے ختم ہو رہی ہے اور اس بات کے واضح اشارے ہیں کہ حکومت اس قرض کو دو سالہ مدت کی تکمیل پر واپس کردے گی ۔ سعودی عرب کی جانب سے پاکستان کو امدادی پیکج دیا گیا تھا جو در اصل 6.2 بلین ڈالرس کا تھا جس کا مقصد وزیر اعظم عمران خان کی حکومت کو بین الاقوامی قرضہ جات کی ادائیگی میں ناکامی سے بچانا تھا ۔ وزارت خارجہ نے ایک سوال کے جواب میں بتایا کہ قرض کی واپسی اور دیگر امور دونوں ممالک کے راز کا مسئلہ ہے اور اس کی زیادہ تفصیلات کا افشاء نہیں کیا جاسکتا ۔ تاہم ایک اعلی سرکاری عہدیدار نے شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ اس بات کا امکان ہے کہ آئندہ ایک مہینے تک پاکستان سعودی عرب کو قرض کی یہ رقم واپس کردے گا ۔ پاکستان میں اقتدار حاصل کرنے کے بعد عمران خان نے دو مرتبہ سعودی عرب کا دورہ کیا تھا تاکہ امدادی پیکج حاصل کیا جاسکے ۔ اس پیکج کی مدد سے ہی عمران خان کی حکومت بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے ساتھ کوئی معاہدہ کرسکی ہے ۔ سعودی عرب نے پاکستان کو تین سالہ مدت کیلئے 2 بلین ڈالرس کا معاشی پیکج دینے سے اتفاق کیا تھا ۔ اس میں تین بلین نقد امداد اور 3.2 بلین کی سالانہ تیل اور گیس کی سپلائی بھی شامل تھی ۔ یہ ادائیگیاں پاکستان کو کچھ مہلت کے بعد کرنی تھیں۔ ذرائع نے کہا کہ حکومت سعودی عرب کا قرض واپس کرنے مختلف راستے تلاش کر رہی ہے اور ممکن ہے کہ قرض واپس کردیا جائے ۔