نیویارک: عالمی ادارہ صحت نے کہا ہے کہ مشرقی بحیرہ روم، جنوب مشرقی ایشیا اور مغربی بحرالکاہل کے ممالک میں ایسی ادویات کی شناخت ہوئی ہے جو مضر صحت ہیں۔متاثرہ سیرپ اور اسسپینشنز پاکستان میں فارمکس لیباریٹریز میں تیار کیے گئے تھے اور سب سے پہلے ان کے بارے میں پاکستان اور مالدیپ میں پتہ چلا تھا۔اسی طرح کچھ مضر صحت ادویات کا بیلیز، فجی اور لاؤس میں بھی پتہ چلا ہے۔ اس معاملے پر کمپنی فوری طور پر تبصرے کیلئے دستیاب نہیں تھی۔ عالمی ادارہ صحت نے کہا ہیکہ ان ادویات اور سیرپ میں ایسے فعال اجزا شامل ہیں جو مختلف بیماریوں کے علاج کیلئے ہیں، تاہم ان میں مضر صحت ایتھلین گلائکول کی ناقابل قبول سطح شامل ہے۔اس سے قبل بھی عالمی ادارہ صحت نے انڈیا اور انڈونیشیا میں تیار کی گئی دوائیوں سے متعلق انتباہ جاری کیا تھا۔ گذشتہ برس ان ادویات کے استعمال سے تقریباً 300 بچوں کی جان گئی تھی۔ پاکستان میں تیار کی گئی سیرپ سے متعلق عالمی ادارہ صحت کو کوئی کیس رپورٹ نہیں ہوا، تاہم اس نے حکومتوں پر زور دیا ہیکہ کمپنی کی جانب سے دسمبر 2021 اور 2022 کے درمیان تیار کی گئی ادویات سے متعلق چوکنا رہیں۔