پاکستان قومی اسمبلی تحلیل، عمران کی تجویز پر صدر کا فیصلہ

,

   

اسلام آباد: صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے وزیراعظم عمران خان کی تجویز پر قومی اسمبلی تحلیل کردی۔ خیال رہے کہ وزیراعظم عمران خان کے خلاف اپوزیشن نے 8 مارچ کو تحریک عدم اعتماد جمع کرائی تھی جس پر آج ووٹنگ متوقع تھی۔تاہم اجلاس شروع ہوتے ہیں وقفہ سوالات میں بات کرتے ہوئے وزیر قانون فواد چوہدری کی جانب سے قرارداد پر سنگین اعتراضات اٹھائے گئے۔جس کے بعد ڈپٹی اسپیکر نے عدم اعتماد کی تحریک کو آئین و قانون کے منافی قراد دیتے ہوئے مسترد کردیا اور اجلاس غیر معینہ مدت تک کے لیے ملتوی کردیا۔ایوانِ زیریں کا اجلاس ختم ہونے کے فوراً بعد وزیراعظم نے قوم سے مختصر خطاب کیا اور اعلان کیا کہ اسمبلی تحلیل کرنے کی تجویز صدر مملکت کو بھجوادی ہے۔وزیر اعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ ہمارے اسپیکر نے حکومت تبدیل کرنے کی سازش کو مسترد کیا ہے یہ ایک غیر ملکی ایجنڈا تھا اور اس کے مسترد ہونے پر میں ساری قوم کو مبارک باد پیش کرنا چاہتا ہوں۔انہوں نے کہا کہ کل سے لوگ مجھے پیغام دے رہے تھے کہ وہ پریشان تھے اس سازش پر، میں انہیں پیغام دینا چاہتا ہوں کہ گھبرانا نہیں ہے اللہ اس قوم کو دیکھ رہا ہے۔27 رمضان کو یہ ملک وجود میں آیا تھا اس طرح کی سازش یہ قوم کامیاب نہیں ہونے دے گی۔وزیر اعظم نے کہا کہ اسپیکر نے اپنے اختیارات استعمال کرتے ہوئے جو فیصلہ کیا اس کے بعد میں نے صدر مملکت کو تجویز بھیج دی ہے کہ اسمبلیاں تحلیل کریں ہم جمہوری طریقے سے عوام میں جائیں اور عوام فیصلہ کرے کہ وہ کس کو چاہتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ کوئی باہر کے لوگ اور ایسے لوگ پیسے خرچ کر کے اس ملک کی تقدیر کا فیصلہ نہ کریں، جو لوگ شیروانیاں سلوا کر بیٹھے ہوئے ہیں اور لوگوں کو خریدنے کے لیے انہوں نے کروڑوں روپے خرچ کیے ہیں یہ سارا پیسہ ضائع ہوگا۔ان کا کہنا تھا کہ جن لوگوں نے پیسہ لیا ہے وہ کوئی ثواب کما لیں اس پیسے کو اللہ کی راہ میں خرچ کردیں۔میں اپنی قوم کو کہتا ہوں آپ انتخابات کی تیاری کریں،آپ نے ملک کا فیصلہ کرنا ہے۔ وزیراعظم کے خطاب کے بعد وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے کہا ہے کہ آئین کے آرٹیکل 224 کے تحت وزیر اعظم اپنی ذمہ داریاں جاری رکھیں گے کابینہ تحلیل کر دی گئی ہے۔اس فیصلہ کے بعد آئین کے مطابق 90 دنوں میں ملک میں انتخابات منعقد ہوسکیں گے۔ دوسری طرف اپوزیشن کی جانب سے اس مسئلہ پر سپریم کورٹ سے رجوع ہونے کے بعد سپریم کورٹ نے قومی اسمبلی تحلیل کرنے کا ازخود نوٹ لیا ہے۔ پاکستان سپریم کورٹ نے اس مسئلہ کا جائزہ لینے کیلئے خصوصی بنچ کی تشکیل دی ہے جو صورتحال کا تفصیلی جائزہ لے گی۔

وزیر اعظم پاکستان عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد مسترد
اسلام آباد: ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی قاسم سوری نے وزیراعظم عمران خان کے خلاف پیش کی گئی تحریک عدم اعتماد کو آئین کے منافی قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا اور قومی اسمبلی کا اجلاس ملتوی کر دیا۔ہنگامہ خیز اجلاس میں وزیر قانون فواد چوہدری نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ 7 مارچ کو ایک میٹنگ ہو ئی اور اس کے ایک روز بعد 8 مارچ کو وزیراعظم کے خلاف تحریک عدم اعتماد پیش کی گئی تھی۔فواد چوہدری نے کہا کہ ہمارے نمائندہ کو 7 مارچ کو ایک میٹنگ میں طلب کیا جاتا ہے، اس میں دوسرے ممالک کے حکام بھی بیٹھتے ہیں، ہمار ے نمائندہ کو بتایا جاتا ہے کہ عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد پیش کی جاری ہے، اس وقت تک پاکستان میں بھی کسی کو پتہ نہیں تھا کہ تحریک عدم اعتماد آ رہی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ یہ غیر ملکی حکومت کی جانب سے حکومت کی تبدیلی کی بہت ہی متاثر کوشش ہے۔وزیر قانون کا کہنا تھا کیا یہ 22 کروڑ لوگوں کی قوم اتنی کمزور ہے کہ باہر کی طاقتیں یہاں پر حکومتیں بدل دیں، ہمیں بتایا جائے کہ کیا بیرونی طاقتوں کی مدد سے حکومت تبدیل کی جا سکتی ہے، کیا یہ آئین کے آرٹیکل 5 کی خلاف ورزی نہیں ہے؟ سابق صدر آصف زرداری، شہباز شریف اور بلاول بھٹو زرداری بھی قومی اسمبلی میں موجود تھے۔وفاقی وزیر کے اظہار خیال کے بعد ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی نے کہا کہ آئین کے آرٹیکل 5 کے تحت کسی بھی غیر ملکی طاقت کے کہنے پر حکومت تبدیل نہیں کی جا سکتی لہذا اپوزیشن کی 8 مارچ کو وزیراعظم کے خلاف پیش کی گئی تحریک عدم اعتماد کو آئین سے انحراف قرار دیتے ہوئے اسے مسترد کر دیا جاتا ہے اور قومی اسمبلی کا اجلاس غیر معینہ مدت کیلئے ملتوی کیا جاتا ہے۔ڈپٹی اسپیکر کے اس فیصلہ کے خلاف اپوزیشن ارکان نے زبردست ہنگامہ آرائی کی اور ووٹنگ کروانے کیلئے اصرار کرتے رہے ۔ اجلاس ملتوی کرنے کے اعلان کے بعد اپوزیشن ارکان نے تمثیلی اسمبلی میں کاروائی چلائی ۔ بعدازاں اپوزیشن ارکان اس فیصلہ کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع ہوگئے۔