پاکستان میڈیا ڈیولپمنٹ اتھاریٹی تحلیل ، مریم اورنگ زیب کا اعلان

   

اسلام آباد: پاکستان کی نئی وزیر اطلاعات مریم اورنگ زیب نے پاکستان میڈیا ڈیولپمنٹ اتھارٹی کو تحلیل کرنے کا اعلان کیا ہے ۔مقامی اخبار ڈان نے چہارشنبہ کو یہ اطلاع دی۔اورنگ زیب نے وزیر اطلاعات کے طور پر حلف اٹھانے کے فوراً بعد یہ اعلان کیا، جہاں انہوں نے کہا کہ ایسا کوئی بھی ‘سیاہ’ قانون نہیں بنایاجائے گا یا اس پر عمل نہیں کیاجائے گا جو لوگوں کے آزادی اظہار کے آئینی حق پر قدغن لگائے ۔انہوں نے کہاکہ پہلے سے ہی دباو کاسامنا کررہی میڈیا کی آواز پرپابندی لگانے کے لئے ایک کالا قانون لانے کی کوشش میں آج اعلان کرتی ہوں کہ پی ایم ڈی اے اب تک جس شکل یا جس طورپر کام کر رہاتھا، اسے تحلیل کیاجارہا ہے ۔اورنگ زیب نے اپنی پریس کانفرنس سے عین قبل مطیع اللہ جان، حامد میر اور اسد طور سمیت تمام صحافیوں اور ان لوگوں کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا، جن کے پروگراموں کو سابقہ حکومت نے آف ایئرکردیاتھا۔ میڈیا اداروں سمیت تمام اسٹیک ہولڈرز کی ایک مشترکہ کارروائی سمیت میڈیا کو درپیش چیلنجز اور مسائل پر بات کرنے کیلئے میٹنگ کرے گی۔
، تاکہ ایک درمیانی راستہ نکالا جاسکے ، جو سب کے لئے عملی اور قابل قبول ہو۔وزیر اطلاعات نے زور دے کر کہاکہ پہلے سے کام کرنے والی پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (پیمرا) کے علاوہ کوئی ریگولیٹری اتھارٹی قائم نہیں کی جائے گی۔گزشتہ سال پی ایم ڈی اے کے قیام کی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) حکومت کی تجاویز کی صحافیوں، کاکنان اوراس وقت کی اپوزیشن نے شدید تنقید کی تھی۔ اپنے قیام کے بعد پی ایم ڈی اے پاکستان میں پرنٹ، براڈکاسٹ اور ڈیجیٹل میڈیا کے ریگولیشن کے لیے مکمل طور پر ذمہ دار ہونے والا تھا۔اورنگ زیب نے کالے قانون۔الیکٹرانک جرائم کی روک تھام (ترمیمی) آرڈیننس، 2022 کوبھی یادکیا، جسے سابقہ حکومت نے لانے کی کوشش کی تھی، لیکن بعد میں اسلام آباد ہائی کورٹ (آئی ایس سی) نے اسے مسترد کر دیا تھا۔