ایک قریبی دوست ہونے کے ناطے چین پاکستانی عوام کے انتخاب کا مکمل احترام کرتا ہے،چینی وزارت خارجہ کی ترجمان ماؤننگ کی میڈیا سے بات چیت
بیجنگ: پاکستان میں انتخابات کے بعد جاری سیاسی تعطل کے دوران چین نے اپنے قریبی اتحادی پر سیاسی وحدت اور سماجی استحکام کو برقرار رکھنے پر زور دیا۔ بیجنگ کا کہنا ہے کہ چین پاکستانی عوام کے انتخاب کا مکمل احترام کرتا ہے ۔ پاکستان میں ہوئے عام انتخابات کے بارہ دن گزر جانے کے باوجود کسی بھی جماعت یا اتحاد کی طرف سے حکومت کا سازی کا دعویٰ اب تک سامنے نہیں آیا ہے اور اس دوران چین نے پیر کے روز اپنے ‘قریبی دوست‘ پر سیاسی اتحاد اور سماجی استحکام کو برقرار رکھنے کا مطالبہ کیا ہے۔چینی وزارت خارجہ کی ترجمان ماؤ ننگ نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ ایک قریبی دوست اور پڑوسی ہونے کے ناطے چین پاکستانی عوام کے انتخاب کا مکمل احترام کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بیجنگ کو پوری امید ہے کہ پاکستان میں تمام متعلقہ سیاسی جماعتیں انتخابات کے بعد سیاسی وحدت اور سماجی استحکام کو برقرار رکھنے اور قومی ترقی کی خاطر مستقبل کی تشکیل کیلئے مشترکہ طورپر مل کر کام کریں گی۔ پاکستان میں 8 فروری کو ہوئے انتخابات کے بعد کوئی بھی سیاسی جماعت اپنے طور پر وفاقی حکومت بنانے کیلئے مطلوبہ تعداد حاصل نہیں کرسکی ہے۔ پاکستان کی 264 رکنی قومی اسمبلی میں حکومت سازی کیلئے کم از کم 134اراکین کی ضرورت ہوتی ہے۔سابق وزیر اعظم نواز شریف کی پاکستان مسلم لیگ (ن)کو 75سیٹیں اور بلاول بھٹو زرداری کی پاکستان پیپلز پارٹی کو 54سیٹیں حاصل ہوئی ہیں۔ عمران خان کی پاکستان تحریک انصاف(پی ٹی آئی) کو الیکشن میں حصہ لینے نہیں دیا گیا تھا لیکن ان کے حمایت والے 95 آزاد امیدواروں نے کامیابی حاصل کی ہے۔ پی ٹی آئی کا دعویٰ ہے کہ انتخابات میں بڑے پیمانے پر دھاندلی کی گئی اور اس کے کم از کم 177 امیدوار کامیاب ہوئے ہیں۔حکومت اور الیکشن کمیشن دونوں نے ہی انتخابات میں کسی بھی طرح کی دھاندلی سے انکار کیا ہے۔چین نے ‘کامیاب‘ انتخابات پر پاکستان کو مبارک باد دی ہے۔ چینی وزارت خارجہ کی ترجمان نے کہاکہ پاکستان میں عام انتخابات مستحکم اور ہموار طریقے سے منعقد کیے گئے۔ انہوں نے کہا کہ چین کو یقین ہے کہ پاکستان میں متعلقہ فریق یکجہتی قائم رکھتے ہوئے مسائل کو حل کرنے کیلئے مل کر کام کر سکتے ہیں۔ماؤ ننگ نے کہا، ”چین پاکستان میں بننے والی نئی حکومت کے ساتھ مل کر کام کرنے کا خواہاں ہے۔ چین پاکستان تعمیر کو تیز کرنے کیلئے نئی حکومت کے ساتھ کام کرنے کی امید رکھتا ہے۔ دونوں ممالک کے عوام کے فائدے کیلئے نیا دور شروع کیا جائے گا۔‘‘پاکستان میں سیاسی عدم استحکام چین کیلئے تشویش کا باعث بنا ہوا ہے۔ بھارت کے اعتراضات کو نظر انداز کرتے ہوئے وہ60 بلین ڈالر کے چین پاکستان اکنامک کوریڈور (سی پیک) جیسے اہم اسٹریٹیجک پروجیکٹ پر کام کررہا ہے۔ پاکستان کا زیر انتظام کشمیر بھی سی پیک پروجیکٹ کا حصہ ہے۔بیجنگ معاشی بحران سے دوچار پاکستان کو مالی امداد بھی فراہم کر رہا ہے تاکہ اسلام آباد قرضوں کی ادائیگی کے توازن اور ضروری غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر کو برقرار رکھ سکے۔
چینی وزارت خارجہ کی ترجمان ماؤ ننگ کا کہنا تھا کہ چین اور پاکستان کے درمیان دیرینہ اسٹریٹیجک تعاون پر مبنی شراکت داری ہے اور بیجنگ روایتی دوستی کو جاری رکھنے، مختلف شعبوں میں عملی تعاون کو مزید گہرا کرنے، نئے عہد میں مزید قربت کے ساتھ دور جدید میں ایک مشترکہ معاشرے کی تعمیر کیلئے پاکستان کے ساتھ کام کرنے کا منتظر ہے تاکہ بہتر انداز سے دونوں ممالک کے عوام کو فوائد پہنچ سکے۔
