پاکستان میں بجلی کے بلوں میں کمی کا امکان ؟

   

اسلام آباد: توانائی کے امور پر نگاہ رکھنے والے ماہرین کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف کے مطالبات میں جکڑی پاکستان کی حکومت کے لیے بجلی کے بلوں میں فوری اور نمایاں کمی کا فیصلہ آسان نہیں۔ صارفین کو بھی بجلی احتیاط سے استعمال کرنا چاہیے۔ماہرین کے مطابق بجلی کے نرخوں میں کمی کے لیے حکومت کو طویل المدتی پالیسیوں کو اپنانے، توانائی کے شعبہ میں بنیادی اصلاحات کرنے اور سیاسی عزم کے ساتھ بڑے فیصلے کرنے کی ضرورت ہے۔اقتصادی تجزیہ کار ڈاکٹر خاقان نجیب نے میڈیا سے گفتگو میں بتایا کہ بجلی کے بلوں میں کمی کے لیے توانائی کے شعبہ کو حکومتی ڈومین سے نکالنا ہو گا۔ ان کے بقول حکومت کا ہی بجلی خریدنا اور حکومت کا ہی بجلی پیدا کرنا بھی ایک بڑا مسئلہ ہے، سرکاری مشینری اس کام کو پروفیشنل سرگرمی کے ساتھ نہیں کر رہی اور وہ واجبات کی وصولی اور بجلی کے ترسیلی نقصانات کو روکنے کی بجائے صارفین پر اس کا بوجھ لاد دیتی ہے جو کہ مناسب نہیں ہے۔ زیادہ سے زیادہ سے بجلی سولر، پانی اور مقامی کوئلے سے بننی چاہیے اور صرف ٹارگٹڈ سبسیڈی ہی دی جانی چاہیے۔