پاکستان میں بین الاقوامی کرکٹ ہنوز مشکل صورتحال کا شکار

   

کراچی۔11 ستمبر (سیاست ڈاٹ کام ) پاکستان میں بین الاقوامی کرکٹ کی بحالی کیلئے کوشاں پاکستان کرکٹ بورڈ کیلئے یہ مایوس کن ترین لمحہ ہے کہ صف اول کے دس سری لنکائی کھلاڑیوں نے پاکستان آنے سے صاف انکار کردیا ہے اور بین الاقوامی کرکٹ کی بحالی ایک مسئلہ بنی ہوئی ہے۔اگرچہ پی سی بی حکام کے مطابق سینئر سری لنکن کرکٹرز کا پاکستان آنے سے انکار ان کا اندرونی معاملہ ہے تاہم کوشش یہی ہے کہ مہمان ٹیم کم از کم ایک ٹسٹ پاکستان میں کھیلنے پر آمادہ ہو جائے۔ذرائع کے مطابق پی سی بی نے مختصر فارمیٹ کے میچوں کے انعقاد کی پہلے کوشش اس سوچ کے ساتھ کی تھی کہ مہمان کرکٹرزکو حفاظت کے اعتبار سے یقین ہو جائے کہ ماضی کے برعکس اب ماحول اس حوالے سے قدرے مختلف اور سازگار ہے لیکن دسمبر میں ورلڈ ٹسٹ چمپئن شپ کے سلسلے میں کھیلے جانے والے دو ٹسٹ میچز کیلئے نروشن ڈکویلا،کوشل پریرا،دھنن جایا ڈی سلوا،تھیسارا پریرا،اکیلا دنن جایا،لسیتھ مالنگا،اینجلو میتھیوز،سرنگا لکمل، دنیش چندی مل اور دیموتھ کرونارتنے نے سیکیورٹی پر خدشات کے باعث مختصر فارمیٹ کیلئے بھی پاکستان آنے سے انکار کردیا ہے۔ذرائع کا دعویٰ ہے کہ مذکورہ کھلاڑی طویل فارمیٹ کی کرکٹ کیلئے بھی پاکستان آنے پر رضامند نہیں ہوں گے اور کمزور ٹیم بھیج کر کرکٹ سری لنکا کے حکام اہم ٹسٹ پوائنٹس گنوانے کے متحمل نہیں ہو سکیں گے۔ حالیہ ایک اجلاس میںکھلاڑیوں کی جانب سے انکار کے باوجود چیف سلیکٹر اسانتھا ڈی میل نے واضح کردیا ہے کہ کھلاڑیوں کے مستقبل کے انتخاب پر ان کی حالیہ دستبرداری منفی اثرات مرتب نہیں کرے گی۔ اس ضمن میں افسوسناک بات یہ ہے کہ سری لنکا کی کمزور ٹیم کے پاکستان میں مختصر فارمیٹس کے میچز کھیلنے سے پاکستان کے متعلق عالمی رائے قطعی تبدیل نہیں ہو سکے گی اور صف اول کے کھلاڑیوں کا پاکستان آنے سے گریز مجموعی حالات میں کوئی تبدیلی نہیں لا سکے گا جس نے سری لنکن سکیورٹی وفد کے پاکستان آکر جائزہ لینے کے بعد مثبت رپورٹس کے اثرات کو بھی زائل کردیا ہے۔