پاکستان میں مسلح افواج کے سربراہان کی میعاد میں توسیع کا قانون

   

اسلام آباد: پاکستان نے پیر کے روز مسلح افواج کے سربراہان کی مدت ملازمت تین سے بڑھا کر پانچ سال کردی۔ قومی اسمبلی اور سینیٹ سے منظور ہونے والے ان بلوں پر قائم مقام صدر نے دستخط کردیئے ہیں۔پاکستان کی قومی اسمبلی اور سینیٹ نے پیر کے روز مسلح افواج کے سربراہان کی مدت ملازمت تین سے بڑھا کر پانچ سال اور سپریم کورٹ کے ججوں کی تعداد سترہ سے بڑھا کر چونتیس نیز اسلام آباد ہائی کورٹ کے ججوں کی تعداد نو سے بڑھا کر بارہ کرنے کے حوالے سے بلوں کو منظوری دے دی۔قائم مقام صدر سید یوسف رضا گیلانی نے مسلح افواج کے سربراہان کی مدت ملازمت میں توسیع کے بلوں پر دستخط کردیے ہیں، جس کے ساتھ ہی یہ قانون بن گئے۔ دیگر بلوں پر آج منگل کو دستخط ہو جانے کی امید ہے۔سابق وزیر اعظم عمران خان کی پاکستان تحریک انصاف پارٹی نے مسلح افواج کے سربراہان کی مدت ملازمت میں توسیع کی مخالفت کی۔کہا جارہا ہے کہ پاکستان کے آرمی چیف جنرل عاصم منیر اور دیگر کمانڈروں کی ملازمت کی مدت میں توسیع جیل میں بند سابق وزیر اعظم عمران خان کیلئے ایک دھچکہ ہے۔ کیونکہ ان کی پارٹی اپنے رہنما کی معزولی کیلئے فوج کو ذمہ دار ٹھہراتی ہے۔دوسری طرف اسے فروری میں ہونے والے انتخابات کے بعد اقتدار سنبھالنے والے وزیر اعظم شہباز شریف کو اہم ترین فوجی شخصیات سے حمایت حاصل کرنے کے اقدام کے طور پر بھی دیکھا جا رہا ہے۔بری فوج، بحریہ اور فضائیہ کے سربراہان کی مدت ملازمت بڑھانے کیلئے متعلقہ اداروں کے قوانین میں ترامیم کو پہلے ایوان زیریں قومی اسمبلی نے منظور کیا اور پھر فوراً سینیٹ کے اجلاس میں بھی انھیں منظور کر لیا گیا۔
جیو ٹی وی نے بتایا کہ قانون میں ترمیم منظور کرنے کیلئے سینیٹ کو صرف 16 منٹ لگے۔اس دوران دونوں ایوانوں میں اپوزیشن ارکان نے نعرے بازی کی۔ قومی اسمبلی کے اجلاس میں حزب اختلاف کی جماعتوں کی جانب سے مسلسل احتجاج اور ‘نو نو‘ کے نعرے لگائے گئے۔ جبکہ سینیٹ کے اجلاس میں خواجہ آصف کی تقریر کے دوران ’شرم کرو، حیا کرو‘ کے نعرے لگے۔ پی ٹی آئی کے بعض اراکین نے بل کی کاپیاں پھاڑ دیں۔وزیر دفاع خواجہ آصف نے مسلح افواج کے سربراہان کی مدت ملازمت میں توسیع کے متعلق قانون کا دفاع کیا۔
انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات میں تسلسل کی ضرورت ہے اور یہ ضروری ہے کہ جو بھی مسلح افواج کا سربراہ ہو وہ اسمبلی اور دیگر اداروں کی پانچ سالہ مدت کی طرح مناسب وقت کیلئے بہتر دفاعی منصوبہ بندی کر سکے۔