ہندوستان سے تجارتی تعلقات منقطع کرنے کا شاخسانہ : سینئر وزیر
اسلام آباد ۔4 ڈسمبر ( سیاست ڈاٹ کام ) پاکستان کے ایک سینئر وزیر نے ہندوستان کے ساتھ تجارت کا سلسلہ مسدود ہونے کیلئے ملک میں بڑھتی ہوئی مہنگائی کو مورد الزام ٹھہرایا اور کہا کہ جب ٹماٹر جیسی چیز بھی 300روپئے فی کیلو ( پاکستانی روپئے ) فروخت ہونے لگے تو مہنگائی کا اندازہ لگایا جاسکتاہے ۔ وزیر برائے معاشی اُمور حمد اظہر نے یہ ریمارکس اس وقت کئے جب وزیراعظم پاکستان عمران خان کی معاشی ٹیم ملک میں معاشی صورتحال سے متعلق میڈیا سے بریفنگ کررہی تھی ۔ انہوں نے کہا کہ غذائی اشیاء کی قیمتوں میں جو بے تحاشہ اضافہ ہوا ہے وہ ہندوستان کے ساتھ تجارتی تعلقات مسدود کرنے کا نتیجہ ہے جس میں درمیانی آدمی کے رول کو بھی نظرانداز نہیں کیا جاسکتا ۔ اپنی بات جاری رکھتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مرکزی حکومت نے اس معاملہ کو صوبائی حکومتوں سے بھی رجوع کیا ہے اور ہدایت کی گئی ہے کہ وہ ’’ سستا بازار ‘‘ کے انعقاد کو یقینی بنائیں تاکہ روزمرہ کی اشیاء واجبی داموں میں خریدتے ہوئے عوام سکون کا سانس لیں ۔ انہوں نے یہ بھی تیقن دیا کہ جنوری اور فبروری تک قیمتوں میں قابل لحاظ کمی ہوگی ۔ وزیر موصوف یہ ریمارک ایک ایسے وقت کیا جب ملک میں ( پاکستان) ٹماٹر کی قیمت 300/-روپئے فی کیلو ہوگئی ہے اور لوگ اسے خریدنے سے قاصر ہیں جبکہ اس کا استعمال تقریباً ہر پکوان میں ہوتا ہے ۔ یاد رہے کہ 5 اگست کو حکومت ہند کی جانب سے جموں و کشمیر کا خصوصی موقف آرٹیکل 370 کو منسوخ کئے جانے کے بعد پاکستان نے ہندوستان کے ساتھ اپنے تجارتی تعلقات منقطع کردیئے تھے ۔
