لاہور، 29 اگست (یو این آئی) پاکستان کے صوبہ پنجاب میں گذشتہ 40 برسوں کے بدترین سیلاب کی وجہ سے سینکڑوں دیہات اور اناج سے بھری فصلیں زیرِ آب آگئی ہیں۔ ایک ملین سے زائد افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کردیا گیا ہے ۔ شدید مون سون بارشوں اور ہندوستان کی طرف سے ڈیموں کا اضافی پانی چھوڑے جانے کے باعث پاکستان کے صوبہ پنجاب کے 3 دریا وں میں طغیانی آ گئی ہے ۔ پنجاب محکمہ قدرتی آفات کے مطابق حکام کو کچھ علاقوں میں مجبوراً دریا کے کنارے توڑنے پڑے ہیں جس کے نتیجے میں 1,400 سے زیادہ دیہات زیرآب آگئے ہیں۔ دریائے چناب میں طغیانی کے نتیجے میں قادرآباد کے رہائشی سینے تک گہرے پانی میں ڈوب گئے ہیں۔حکام نے کہا ہے کہ ہندوستان کی طرف سے دریائے راوی، ستلج اور چناب پر باندھے گئے ڈیموں کا پانی چھوڑے جانے کے باعث سیلاب کی شدت میں اضافہ ہو گیا ہے ۔ پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف نے وفاقی وزراء اور پنجاب کی وزیر اعلیٰ مریم نواز کے ہمراہ سیلاب زدہ علاقوں کا دورہ کیا اور بار بار پیش آنے والے ان مسائل کے حل کیلئے نئے آبی ذخائر کی فوری ضرورت پر زور دیا ہے ۔ ایک سرکاری اجلاس سے خطاب میں شہباز شریف نے کہا ہے کہ “بدقسمتی سے ، پاکستان ان دس ممالک میں شامل ہے جو موسمیاتی تبدیلیوں سے سب سے زیادہ متاثرہو رہے ہیں۔ موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات میں آنے والے سالوں میں مزید اضافہ ہو گا لہٰذا ہمیں فوری اقدامات کی ضرورت ہے “۔ پنجاب، جو پاکستان کی نصف آبادی کا گھر اور گندم، چاول اور کپاس کی پیداوار کا اہم مرکز ہے ، اس ہفتے کے دوران کم از کم 12 اموات دیکھ چکا ہے ۔ ملک بھر میں، جون کے آخر سے تاحال سیلاب کے باعث 800 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
جمعرات کی صبح، دریائے چناب کا پانی قادرآباد کے 1,000 میٹر صلاحیت کے بیراج کو توڑنے کے قریب تھا ۔حکام نے بیراج کو نقصان سے اور دو قصبوں کو زیر آب آنے سے بچانے کیلئے دریا کے کنارے کا ایک حصہ توڑ دیا ہے ۔ جس سے سیلابی پانی کا رُخ قریبی زمین کی طرف مُڑ گیا ہے ۔ پنجاب محکمہ قدرتی آفات کے ترجمان نے کہا ہے کہ”ہم نے خطرے کو ٹال دیا ہے ۔